خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 146
خطبات طاہر جلد 16 146 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء بیان ہوا ہے کہ میں تمہیں ڈرا رہا ہوں اور نتیجہ کیا ، کیوں ڈرا رہا ہوں کہ فَفِرُّوا إِلَى اللهِ اللہ کی طرف دوڑو۔تو محبت سے بھی انسان دوڑتا ہے کسی طرف خوف سے بھی دوڑتا ہے۔محبت سے اس طرف دوڑتا ہے جہاں محبوب ہو۔خوف سے اس طرف دوڑتا ہے جہاں خوف سے امن کی جگہ ہو اور نجات کی امید لگائی جا سکے اس سے۔پس یہ دو کیفیتیں ہیں جن کو گہرے غور سے سمجھیں اپنی زندگیوں میں جاری کریں اور پھر اپنا مطالعہ کرنا شروع کر دیں اور یہ سفر پھر دو طرح سے ہوگا ایک انبوا اور ایک فروا۔فروا کا مضمون گناہوں کی محبت توڑنے کے لئے ضروری ہے۔جب انسان گناہوں میں ملوث ہوتا ہے تو دن بدن اپنے لئے بے چینی اور بے اطمینانی اور رفتہ رفتہ ایک آگ کے سامان پیدا کر دیتا ہے جس میں پھر وہ جلتا چلا جاتا ہے کوئی اس کی پیاس نہیں بجھتی آخر ایک ایسا موقع آتا ہے جب گناہ کی طاقت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ان بڑھوں کی حالت پر غور کرو جن کی جوانی ساری گناہوں میں ڈھل گئی اور کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ تو بہ کرنی ہے اور پھر گناہ اپنے سارے مصائب پیچھے چھوڑ کے چلا جاتا ہے، وفا نہیں کرتا کیونکہ گناہ شیطان ہے، شیطان تو جھوٹی امید میں دلاتا ہے اور پھر چھوڑ کر خبر بھی نہیں لیتا کہ تم کہاں ہو۔اکثر مغربی معاشرے میں جو بوڑھوں کے انجام ہیں وہ آپ کو یہ مضمون سمجھا سکتے ہیں۔اکثر اپنی اولاد کے گھروں میں نہیں ہوتے وہ ہسپتالوں میں یا بڈھوں کے گھروں میں جا کر جان دیتے ہیں اور طرح طرح کے مصائب ساتھ اور پھر جتنے بڑے گناہ ہوں، اتنے ہی زیادہ جسمانی عوارض لاحق ہونے شروع ہو جاتے ہیں، کوئی ایڈز کا شکار ہوا ہے، کوئی کینسر کا مریض ہو گیا، کسی کو اور ایسے دکھ لگ گئے کہ جو پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہے۔ان میں سے بعض عوارض ایسے ہیں جو غلطی سے بھی ہو جاتے ہیں گناہ ضروری نہیں مگر گناہ والی سوسائٹی میں یہ عوارض ضرور بڑھا کرتے ہیں اور مصیبتیں بن جایا کرتے ہیں۔پس ایسی سوسائٹی جس کا انجام اسی جگہ ہی مصیبت والا اور تکلیف والا دکھائی دے رہا ہے اور خود گھبرا گھبرا کے یہ کہتے ہیں ہم کہاں جا رہے ہیں کیا ہو رہا ہے ہمیں، قانون سازی کروکسی طرح آئندہ ہمارے ہاں مجرم کم ہو جائیں۔اب دنیا کی قانون سازی سے جرم مٹ سکتا ہی نہیں ہے، حد سے زیادہ جاہلانہ خیال ہے۔ایک قانون سازی ہے وہ خدا کی قانون سازی ہے اس کے سوا گناہ سے انسان نجات حاصل کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کے سامنے رہتا ہے اور قانون اندھا ہوتا ہے اس کی