خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 145

خطبات طاہر جلد 16 145 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء سے شَفَاعَةُ (البقرة : 255) یعنی آیت اسی طرح نہیں پڑھ رہا، آیت کے مضمون کو آپ کے سامنے ان لفظوں میں رکھ رہا ہوں کہ اس دن سے بھی ڈرو جس دن کوئی سودے بازی نہیں ہوگی ، اس دن سے ڈرو جس دن نہ دوستی کام آئے گی اور نہ شفاعت کام آئے گی۔پس وہ جو شفاعت کی بات خصوصیت سے یہ آیت آپ کے سامنے اس لئے رکھنی چاہتا ہوں کہ اس مضمون میں جو لوگ دھوکہ کھا گئے وہ شفاعت کا مضمون غلط سمجھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ شفاعت کے ذریعے ہم بخشے جائیں گے۔مگر آنحضرت کو تو اللہ نے حکم یہ دیا ہے کہ اپنے عباد کے سوا کسی سے وعدہ ہی نہیں کرنا۔بخشش کا وعدہ تیرے عباد صل الله سے ہے،غیر عباد سے ہے ہی نہیں اور جو عباد بنیں گے ان کی شفاعت کام آئے گی۔پس اس دن سے ڈرو جس دن دوستی اور شفاعت، ان دو باتوں کو خدا نے اکٹھا جوڑا ہے اگر دوستی محمد رسول اللہ ہے سے ہوگی تو پھر وہ دوستی اور آپ کی شفاعت ضرور کام آئیں گے مگر تم ڈرو اس لئے کہ تم نے نہ دوستی کی اور نہ اس شفاعت کے مستحق ہوئے۔پس محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کو تو نہیں اس دن سے ڈرایا جارہا کہ نہ دوستی کام آئے گی نہ شفاعت کام آئے گی ان کو ڈرایا جارہا ہے جو اس فرضی جنت میں، جس کو جنت الحمقاء کہتے ہیں، بے وقوفوں کی جنت اس جنت میں زندگی بسر کرتے رہے اور ایسی ہی جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس دن سے ڈرو جب دوستی کام نہیں آئے گی۔کیا محمد رسول اللہ ﷺ کی دوستی کام نہیں آئے گی ؟ مطلب ہے تم نے جو دوستیاں لگائی ہوئی ہیں وہ تمہارے کام نہیں آئیں گی۔کیا محمد رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کام نہیں آئے گی !؟ نہیں بلکہ وہ فرضی شفاعت جو تم توقع لگائے بیٹھے ہو یا جن سے محبت کرتے ہو ان کی شفاعت کام نہیں آئے گی۔پس اس دن سے پہلے ڈرنے سے ایک شعور پیدا ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا موت اس شعور کو بیدار کرنے کے لئے سب سے اہم چیز ہے۔موت سے زندگی تو بعد میں پھوٹے گی لیکن موت ایک عجیب رحمت ہے کہ ایک زندگی اس سے پہلے بھی پھوٹ جاتی ہے۔اگر انسان موت کا صحیح تصور باندھ لے تو زندہ ہو جاتا ہے اور پھر مر نہیں سکتا کبھی۔یہ دائی نجات ہے جو موت کے مضمون کو سمجھنے سے نصیب ہوا کرتی ہے۔پس موت کا تصور باندھ کر ایک خوف کی حالت اپنے اندر بھی پیدا کریں کیونکہ انیبوا کے علاوہ دوسری جگہ میں نے پہلے بھی غالباً آپ کو بتایا تھا فَفِرُّوا إِلَى اللهِ (الريت: 51) کا مضمون