خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد 16 144 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء تمہاری طرف آئے گا اور باقی سفر تو خدا کی گود میں ہوتا ہے چلنے کی ضرورت ہی نہیں رہا کرتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار ( در مشین اردو : 126) یہ حقیقت ہے بالکل کہ انسان خدا تعالیٰ کی طرف سارا سفر محض اپنی کوششوں سے کر سکتا ہی نہیں ہے۔شروع میں جو حرکت ہے اس میں کوئی جدو جہد، کچھ قوت آزمائی یہ شامل رہتے ہیں اور جب انسان ثابت قدم ہو جائے جب اس کا اخلاص یقینی ہو جائے اور خدا کی نظر میں مقبول ہو جائے پھر باقی سفر گود ہی میں چلتا ہے ہمیشہ۔خود اٹھاتا ہے، سارے کام خود بناتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حمد و ثناء میں مسلسل یہی مضمون چل رہا ہے۔ہم نے اولا د بھی تجھ سے پائی ، فلاں چیز بھی تجھ سے پائی ، فلاں چیز بھی تجھ سے پائی گھر سے تو کچھ نہ لائے“۔ہر چیز تری عطا ہے۔اپنے گھر سے کچھ بھی نہیں لے کے آئے۔تو وہاں تک پہنچنا ہے کہ گھر سے کچھ نہ لائیں کیونکہ گھر میں ہے بھی کیا جو لے کے جائیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا التحیات پڑھنی مصیبت بن جاتی ہے اگر غور کر کے پڑھیں۔روزانہ عرض کر رہے ہیں التحیات اللہ التحیات للہ۔سب تھے اللہ ہی کے لئے ہیں اور پھر تحفوں کا ذکر جسمانی قربانیاں، مالی قربانیاں اور ہوتے کیا ہیں دامن میں تھے جو پیش کر رہے ہو۔ایک ہی تحفہ تو بار بار نہیں دیا جاتا۔ایک دفعہ تحفہ دے کر پھر واپس لے لو پھر دوبارہ لے آؤ پھر واپس لے جاؤ یہ تو پاگل پن کا مضمون ہے۔پس تحفے کا مضمون بتا رہا ہے کہ روز بروز کچھ نہ کچھ اور اضافہ اپنے حسن میں کرنا ہوگا کچھ ایسی بات کرنی ہوگی کہ تم اسے طیبات کہہ سکو اور پھر خدا کے حضور حاضر ہو کہ اے اللہ آج میں نے یہ سوچی ہے طیبہ۔پھر وہ کتنی ہی معمولی حیثیت کی کیوں نہ ہو خدا اسے قبول فرماتا ہے اور اس کے انعامات عطا فرماتا ہے۔اس لئے بہت ہی ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس پر غور اور فکر کی عادت ڈالے کیونکہ غفلت کی حالت میں انسان کو کچھ بھی نصیب نہیں ہو سکتا۔شعور پیدا کر وزندگی کا معلوم کرو تم کون ہو کیوں ہو، کس حالت میں زندگی بسر کر رہے ہو۔شعور پیدا کر وموت کا کہ ایک دن اس نے لازماً آ جانا ہے اور اس دن سے پہلے پہلے خدا ڈرا رہا ہے مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِي يَوْمُ لَا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا