خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 143
خطبات طاہر جلد 16 143 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء رہے وہ زیادہ آسانی کے ساتھ پھر نیکی کی راہوں پہ قدم آگے بڑھانے لگے۔تو ایک تو یہ طریقہ ہے کہ اللہ کی رحمت کو حاصل کرنا ہے تو اس سے پوچھو جو خدا کی رحمت کا ایک مجسمہ بن گیا ، جس کو اللہ تعالیٰ نے رحمتہ للعالمین فرما دیا اور آپ نے یہ راز سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے حصہ پانے کا طریقہ یہ ہے کہ کچھ تھوڑی سی حرکت ضرور کرو انِيبُوا إِلَى رَبِّكُمُ۔پھر خدا تمہیں سنبھالے گا اور تم سپردگی کی طرف لازماً حرکت کرو گے کیونکہ ایک قدم تم نے اٹھایا دس قدم خدا نے تمہاری طرف اٹھالئے۔اب یہ جو مضمون ہے یہ مادی دنیا میں بھی اسی طرح خدا کی رحمت کو ظاہر کرنے والا ہے کیونکہ آپ اپنی مستیاں چھوڑ کر ایک دن تھوڑی سی ورزش کر کے دیکھیں پہلے وہ بڑی بوجھل محسوس ہوتی ہے اور پہلے دن کی ورزش کچھ تھکاوٹ بھی لاتی ہے کچھ بعض دفعہ دردیں بھی پیدا کر دیتی ہے مگر اس کے باوجود آپ اپنے آپ کو پہلے سے بہتر محسوس کرتے ہیں۔دوسرے دن کی ورزش کچھ اور ، تیسرے دن کی کچھ اور یہاں تک کہ جو پہلی ورزش تھی اب دوبارہ وہ کریں تو آپ ورزش اس کو کہہ ہی نہیں سکتے۔اب ایک آدمی جو دس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا ہے جب شروع میں دوڑے گا تو اول تو چند قدم بعض دفعہ اگر موٹا ہو تو چند قدم میں سانس پھول جائے گا دوڑا جائے گا ہی نہیں اور اس کے بعد پھر جسم کا یہ حال ہوگا جیسے اس نے گھنٹوں دوڑ کی ہے عام صحت مند آدمی کے مقابل پر تھوڑی سی دوڑ اس کو اتنی تکلیف پہنچا دے گی۔ایک دفعہ ہمت کرے، ایک دفعہ ارادہ کر لے تو ہرا گلے دن کی دوڑ اس کے بدن کو بھی کم کرے گی، اس کے جسم کو ہلکا کرے گی اس کے بوجھ اٹھانے کی طاقتوں کو بڑھاتی چلی جائے گی۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ام ﷺ نے جو روحانی معارف بیان فرمائے ہیں ان کی تائید میں مادی کائنات اس طرح مستعد کھڑی ہے جیسے غلامانہ شہادت دینے کے لئے حاضر ہو۔ایک بھی روحانی مضمون حضور اکرم ﷺ نے بیان نہیں فرمایا جس کی تائید میں مادی کائنات گواہی نہ دیتی ہو۔پس یہ بھی ویسا ہی مضمون ہے انِيبُوا إِلَى رَبِّكُمُ میں ایک جھکاؤ سا ہے ایک جھکاؤ کا شائبہ سا پایا جاتا ہے۔گناہوں سے ایک دم خدا کی طرف پلٹنا ممکن نہیں ہے۔فیصلہ کرو، سوچو، غور کرو اور پلٹنے کی کوشش کرو۔وہ کوشش تمہارے لئے پلٹنے میں آسانیاں پیدا کرنا شروع کر دے گی ہتم خدا کی طرف اس رفتار سے نہیں جاؤ گے جتنی رفتار سے خدا تمہاری طرف آئے گا یہاں تک فرمایا کہ پھر تم اگر چل کے جاؤ گے تو وہ دوڑ کر