خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد 16 142 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء منہ ماریں گے کیونکہ وہ اس نور کے چشمے سے منہ پھیر لیتے ہیں جس کے بعد پھر گندان کو اچھی غذا نظر آتا ہے، ہر پانی خواہ کیسا ہی گندہ ہو ان کے لئے لذت کے سامان رکھتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ سے اگر تعلق رکھنا ہے اور قائم رکھنا ہے، فائدہ اٹھانا ہے تو پہلی بات یہ صلى الله کہ خدا کی راہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کو کبھی حائل نہ ہونے دیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت جب آپ کی حقیقتیں آپ پر روشن کرے گی تو ایک پہلو سے وہ آپ کے دل پر بوجھ بھی ڈال دے گی۔آپ یہ سمجھیں گے یعنی حقیقت میں بھی بعض دفعہ یہ دکھائی دیتا ہے جو فرضی باتیں ہیں وہ تو بہت دور کی باتیں ہیں۔ایک کسی چیمپیئن کو اپنے قریب سے دیکھیں تو اگر پہلے یہ وہم تھا کہ میں چند ڈنڈ نکال کر اس طرح مضبوط ہو جاؤں گا اور میرے مسلز بن جائیں گے تو واقعہ کسی پہلوان کو جو عام پہلوان بھی ہو اپنے پاس دیکھیں تو آپ کے حوصلے ٹوٹ جائیں گے۔تو اس کا کیا علاج ہے۔اس کا علاج قرآن کریم کی اس آیت نے یہ بیان فرمایا ہے لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ تمہارے کام اللہ کی رحمت صلى الله۔نے بنانے ہیں۔یہ اطاعت بھی رحمت سے نصیب ہوگی اور محمد رسول اللہ یہ بھی رحمت ہی کا ایک صلى الله شاہکار ہیں، خدا کی رحمت کا شاہکار تو اگر محمدرسول اللہ ﷺ ان عظیم مقامات پر رحمت الہی کی وجہ سے پہنچے ہیں تو تمہاری ہر منزل بھی اس اللہ کے کامل غلام کے پیچھے چلنے کے لئے رحمت الہی سے ہی طے ہوگی اور رحمت الہی کا مضمون آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ تم سچی تمنا لے کر اس کی راہ میں کچھ بڑھو، آگے باقی رستے اللہ طے فرمائے گا۔اس لئے وہ جو مشکل دکھائی دے رہی تھی ، ناممکن باتیں دکھائی دے رہی تھیں دنیا کے معاملات میں واقعہ ناممکن ہیں۔صلى الله انسان گناہوں سے تعلق توڑے کیسے۔اس کا یہ علاج یوں بنے گا ، کچھ تو ڑ لو جیسے بعض دفعہ Drug Addicts میرے سامنے آتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ وہ جو ڈرگ کھاتے ہو اس کو بھورنا شروع کر دو یعنی کنارے سے تھوڑی تھوڑی گھسا گھسا کے کم کرنی شروع کر دو اتنی ہمت بھی نہیں ہے!؟ تو سوچ کے کہتے ہیں ہاں یہ ہم کر سکتے ہیں۔میں کہتا ہوں یہ قدم تم اٹھا ؤا گلا پھر اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق بخشے گا۔کچھ دن اسی پر رہنا پھر تھوڑ اسا اور ٹکڑا توڑ دینا پھر کچھ عرصہ اسی پر صبر کرنا اور پھر تھوڑا سا اور توڑ دینا یہ ترکیب میں نے استعمال کروائی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس نے کام کیا ہے اور ایسے ایسے لوگ جو سمجھتے تھے ناممکن ہے ہماری یہ عادتیں چھٹ جائیں دن بدن ان کے بوجھ ہلکے ہوتے