خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 141
خطبات طاہر جلد 16 141 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء کہ نہیں کرتا۔میں یہ یہ قربانیاں خدا کی خاطر کر سکتا ہوں کہ نہیں۔یہ مضمون جتنا سمجھ آتا چلا جائے گا اتنا مشکل بھی ہوتا جائے گا ، ایک اور مشکل یعنی اس مضمون کے سمجھنے میں بھی مشکلات ہیں اور سمجھانے میں بھی مشکلات ہیں کیونکہ بعض دفعہ ایک انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ کوئی آدمی میری حد سے بہت آگے نکل چکا ہے تو وہاں اس کی ہمت ٹوٹ جایا کرتی ہے اور ہمت ٹوٹ کے پھر وہ آگے بڑھ نہیں سکتا۔آنحضرت ﷺے بشر ہیں مگر وہ وہ کام کر دکھائے جو بشر کی طاقت سے باہر نکلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ بشر کی طاقت سے بالا طاقتیں ہیں۔یہی مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کی سیرت میں بیان فرمایا کہ بشر تو تھے مگر باتیں مافوق البشر۔باتیں وہ کر رہے ہیں جو بشر کی طاقت سے باہر اور بڑھ کر اور اونچی ہیں۔یہ جو مضمون ہے یہ ہمتیں تو ڑ دیا کرتا ہے بعض دفعہ اور وہ جو اپنے انبیاء کے افسانے بنالیا کرتے ہیں ان کے کر دار تبھی برباد ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں یہ اس کا کام تھا، یہ عام انسان کی تو طاقت ہی نہیں ہے۔وہ ساری کرامات ہیں وہ سارے کرشمے ہیں جو غیر نبی کو نصیب ہو ہی نہیں سکتے اس لئے ساری نیکیاں جو کرشمے ہیں ان سے عام انسان اس طرح محروم ہو جاتا ہے کہ گویا اس کی طاقت میں ہے ہی نہیں اس لئے ہمت کرنے کی کیا ضرورت ہے اس لئے سب سے بڑے کرشمہ کی طرف کیوں نہ متوجہ ہوں اور وہ کرشمہ پھر یہ دکھائی دیتا ہے کہ یہ اتنا بڑا بزرگ انسان ہے کہ ہمارے سارے گناہ بخش سکتا ہے، اگر اس سے محبت کرو تو سارے گناہ بخش سکتا ہے، یہ مضمون بنا لیتے ہیں اور عبادی کا خطاب بھول جاتے ہیں۔اس مضمون نے مذاہب میں بہت بڑی بڑی تباہیاں مچائی ہیں، عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ابن اللہ ہونا اور شرک کی جو تعلیم عیسائیت میں جاری ہوگئی یہ ساری اسی مضمون سے ہوئی ہے کہ وہ آ گیا جس نے سارے گناہوں کا بوجھ خود اٹھا لیا اب ہمیں کیا ضرورت ہے مصیبتیں کرنے کی۔پس اگر چہ اسلام میں شرک ان معنوں میں ، اس طرح تو نہیں آیا یعنی ظاہری طور پر مسلمان شرک سے بچ گیا مگر اندرونی طور پر اس کے تمام گناہ شرک کی پیداوار ہیں اور اس شرک میں سب سے بڑا شرک اپنے مطاع اور نبی کے تعلق میں پیدا ہوا کرتا ہے۔وہ محبت جب حد سے زیادہ بڑھ جائے اور اتنی بڑھے، حد سے زیادہ سے مراد ہے کہ اس کو انسانی صفات سے بالا کر کے دکھانے لگے تو وہیں اس کے ساتھ تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور وہیں انسان اس کی اطاعت سے فیض یاب ہونے کی صلاحیت چھوڑ بیٹھتا ہے۔پس سارے مشرک گنہگار ہوتے ہیں۔تمام مشرک لازما گندگی میں