خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 130

خطبات طاہر جلد 16 130 خطبہ جمعہ 14 فروری1997ء پھر فرماتے ہیں: ” اور چونکہ عبد کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہر ایک آزادگی اور خودروی سے باہر آ جائے اور پورا متبع اپنے مولیٰ کا ہو اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا کریں۔اب اس مفہوم میں داخل ہو کر کوئی بہت بڑا ایک ذمہ داری کا مقام آنکھوں کے سامنے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔فرماتے ہیں اپنی ہر آزادی کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈال کے اس آزادی سے فارغ ہو جاؤ۔ہر خودروی سے باہر آ جاؤ۔اپنی مرضی کرنے کے جور جحانات پائے جاتے ہیں یہاں تو ہم اپنی کریں گے ، ان سب سے ان کے دائروں سے باہر آ جاؤ اور پورا متبع اپنے مولیٰ کا ہو ( یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ان معنوں میں تمہارے مولیٰ ہوں کہ ان کی کامل اطاعت کے دائرے میں داخل ہو۔) اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا کریں۔( آئینہ کمالات السلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ:190 تا192) پس میں امید رکھتا ہوں کہ ان آیات کریمہ کی اس تفسیر سے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کے حوالے سے میں نے کی ہے آپ استفادہ کریں گے اور توجہ کریں گے۔اپنے چھوٹے بچوں کو بھی متوجہ کریں۔انابت کا جو معاملہ ہے وہ بچپن سے ہی شروع ہونا چاہئے۔وہ سب بڑے یا بڈھے بھی کہہ دینا چاہئے جن کے دل میں بچپن میں کوئی رمق ، اللہ کی محبت کی تھی بچپن میں خیال آیا کرتا تھا کہ ہم اللہ والے ہوں ان کو اللہ تعالی گھیر گھار کے لے آیا کرتا ہے ان میں سے کسی کا بدانجام میں نے نہیں دیکھا۔بدیوں میں مبتلا ہونے کے باوجود پھر آخر ان کی آخری منزل وہی ہوتی ہے جو خدا کی اطاعت کی منزل ہے۔تو اپنے بچوں پر رحم فرمائیں۔ان کو بچپن ہی سے انابت کا مضمون سکھائیں اور جو بے راہرو ہیں ان کو سختی سے مشکل مقامات کی طرف بلانے کی بجائے انابت کے ذریعے ان کے دل میں داخل ہوں اس کے لئے ہر دروازہ کھلا رہتا ہے۔کوئی خدا کے لئے کبھی تو اللہ کی سوچا کرو، کبھی تو اس کی طرف جھکنے کی توجہ پیدا کرو کبھی تو اس کی طرف مائل ہوا کرو۔یہ آواز جو ہے شاذ ہی کوئی بد بخت ہے جو اس کو رد کرے تو اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ہمیں ان معنوں میں اس رمضان کی خیر و برکت کو اپنے لئے دائمی کرنے کی توفیق بخشے۔آمین