خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 129
خطبات طاہر جلد 16 129 خطبہ جمعہ 14 فروری1997ء جو عام انسان ہے عبد بمعنی انسان لیکن غلام انسان۔عبد سے مراد کسی کا بندہ ان معنوں میں نہیں جیسے خدا کی مخلوق ہے۔انسان تو عام ہے خدا ہی کی مخلوق ہے مگر کسی کا عبد تب بنے گا اگر وہ اس کا غلام ہو جائے، اس کا اپنا کچھ نہ رہے، کلیۂ اس کے آقا کا ہو چکا ہو تو ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ لفظ عبد استعمال ہوا ہے۔اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن طاعت سے اپنے تیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا۔اس مقام میں ان کو رباطن نام کے موحدوں پر افسوس آتا ہے کہ جو ہمارے نبی ﷺ سے یہاں تک بغض رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ نام کہ غلام نبی، غلام رسول، غلام مصطفیٰ، غلام احمد، غلام محمد شرک میں داخل ہیں اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ مدار نجات یہی نام ہیں۔بعض ایسے بھی جاہل موحدین کہلاتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ نام ہی مشرکانہ صلى الله ہیں۔غلام محمد رسول اللہ ﷺ کا غلام تو انسان خدا کا ہے صرف۔وہ جاہل سمجھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں ان کے اس اعتراض کو کلیہ ہمیشہ کے لئے رد فر ما دیا ہے۔آنحضرت ﷺ کو واضح ہدایت دی جارہی ہے یہ اعلان کر کہ اے میرے بندو یا میرے غلامو!۔جہاں بندے کا مضمون ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کو بھی خوب کھول رہے ہیں یعنی اس معنی کو رد نہیں فرما ر ہے۔عام بندوں کو سمجھانے کے لئے فرماتے ہیں اس کا معنی غلام کا بھی ہے اس لئے غلام کے معنوں میں سوچو تو تمہارے دل میں کوئی بھی شرک کا واہمہ پیدا نہیں ہوگا اور اس کی تفسیر فرماتے ہیں، وجہ (بیان) فرماتے ہیں کیوں فرمایا گیا لیکن عبد کا معنی جو بندے کے ہیں اس کا بھی ذکر فرمایا ہے وہ انشاء اللہ بعد میں ان اقتباسات کے حوالے سے آپ کے سامنے رکھوں گا تو فرمایا یہاں وہ جاہل لوگ ہیں ان کو پتا ہی نہیں کہ غلام جو ہے وہ اپنی شخصیت کو دوسرے کی خاطر کھو دیتا ہے، کلیۂ اس کے تابع فرمان ہو جاتا ہے، اس کا کچھ نہیں رہتا سب کچھ ان کا ہو جاتا ہے۔ان معنوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کے ہو جاؤ تو پھر نجات یقینی ہے۔کوئی بھی نجات کی راہ میں تمہارے لئے روک پیدا صلى الله نہیں ہوگی۔کسی طرف سے بھی نجات کو کوئی بھی خطرہ نہیں پیدا ہوگا۔محمد رسول اللہ ﷺ کے دامن میں، اس کی پناہ میں آجاؤ تو ساری پنا ہیں تمہیں مل جائیں گی۔