خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد 16 121 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء چلے جاؤ۔پس یہ ایک وسیع انسانی تجربہ ہے کہ وہ لوگ جو گناہ سے دور ہٹنے کا ارادہ کرتے ہیں کوشش کرتے ہیں طاقت نہیں پاتے ، اگر وہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں اور خدا کی محبت کے واسطے دے کر گریہ و زاری کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں کہ اے اللہ ہم کیا کریں ہمیں گناہ نے گھیر لیا ہے، بے اختیاری کا عالم ہے، ہم اپنا معاملہ تیرے سپرد کرتے ہیں تو جس طرح چاہے ہمیں پاک صاف کرے ایسے لوگوں کی دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ناممکن ہے کہ غیبی ہاتھ ان کے گناہوں کو صاف نہ کرنا شروع کرے۔پس أَسْلِمُوا میں وہ سپردگی نہیں ہے جو احسان بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک معنی رکھتی ہے۔وہ سپردگی جو حضرت ابراہیم کو نصیب ہوئی جن کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرة : 132) اپنے آپ کو سپرد کر دو انہوں نے کہا میں تو ہو چکا ہوں تیرا سارا کا سارا۔وہ گنا ہوں سے بچنے والا مضمون نہیں، یہاں گناہوں سے بچنے والا مضمون ہے۔اس لئے موقع محل کے مطابق اسلموا کے معنی کئے جائیں گے۔اپنے معاملات اللہ کے حوالے کرو مگر دیانت داری اور خلوص کے ساتھ۔اس کی محبت کے نتیجے میں، اپنی بے اختیاری اپنی بے بسی کو اس کے حضور پیش کرتے ہوئے کہہ دواب ہم تیرے ہو گئے ہیں: سپردم به تو مایه ء خویش را تو دانی حساب کم و بیش را به نام این دبخشاینده شرف نامه نظامی از حکیم نظامی گنجوی ) یہ وہ مضمون ہے جو یہاں اسلِموا میں بیان ہوا کہ اے اللہ ہم نے تو اپنا سارا معاملہ تیرے حوالے کر دیا تو دانی حساب کم و بیش را تو جانتا ہے کہ کم کیا ہے اور زیادہ کیا ہے۔ہم سے تو اس سے زیادہ کچھ نہ ہو سکا۔جو تھا وہ تیرے حضور حاضر کرتے ہیں۔تو اس طرح جو بخشش ہے وہ اللہ تعالیٰ کی سپردگی میں ہوتی ہے، اس کی حفاظت میں ہوتی ہے، اس کی طاقت کے تابع ہوتی ہے، اس کی طاقت کے سہارے ہوتی ہے۔اگر ایسا ہو تو مِنْ قَبْلِ أنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ۔اگر ایسا نہیں کرو گے تو پھر عذاب میں تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔عذاب سے کلیہ بچانے کا مضمون نہیں ہے یہاں کسی بھی تکلیف میں تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔مگر اگر تم تقویٰ کا یہ معیار قائم کر لو گے اس معیار پر پورے اتر و گے تو عذاب آئے گا بھی تو ہم تمہیں ضرور مدد دیں گے اور یہ وعدہ جو ہے یہ ایک عام وعدہ ہے جو بلا استثناء ہمیشہ ان مسلمانوں