خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 116
خطبات طاہر جلد 16 116 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء انجام دینے کی حیثیت سے امیر بھی رہے اور عملاً چوہدری عبد اللہ خاں صاحب معزول نہیں ہوئے بلکہ ان کا مشورہ جاری رہا۔یہ حقیقت ہے جو تاریخی حقیقت ہے اسے درست کرنا ضروری تھا۔چونکہ میرے خطبہ سے غلط تاثر پڑ سکتا تھا اس لئے مجھے وضاحت سے بات پیش کرنی پڑی۔اب میں ان آیات کی طرف آتا ہوں قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ رمضان گزرا ہے اس میں بہت موقع ملا جماعت کو تو بہ کا، استغفار کا، گناہ جھاڑنے کا، اپنے نفوس کے وضو کا اور ان کے غسل کا بھی اور بہت ہی خوش نصیب ہیں وہ جو رمضان سے دھل کے پاک صاف ہوکر نکلے ہیں۔کچھ ایسے بھی ضرور ہوں گے، کیونکہ سو فیصدی قوم کی اصلاح تو ممکن ہی نہیں ہے کوئی نبی ایسا نہیں جس کے زمانے میں کسی قوم کی اس کی زندگی ہی میں سو فیصدی اصلاح ہو چکی ہو اس لئے جاری جدو جہد ہے، ایک جہاد ہے جس میں ہم نے ہمیشہ مصروف رہنا ہے۔جب تک خدا کا بلاوانہ آجائے ہم نے لازماً جد و جہد کرنی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ایسا خوش نصیب ہو جائے کہ مرنے سے پہلے وہ ابرار میں لکھا جائے اور اس کے تمام گناہ بخشے جاچکے ہوں۔اس تعلق میں یہ آیت ہے جو ایک خوشخبری لے کر آئی ہے اور ایک تنبیہ بھی لے کر آئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اے وہ لو گو جنہوں نے اپنے نفوس پر اسراف کیا ہے۔یہاں عام گناہ مراد نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں یعنی گناہ کبائر میں ملوث ہوئے ہیں۔جو بڑے سے بڑے گناہ ہیں وہ بھی کر بیٹھے ہیں لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا يقينا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخشنے کی طاقت رکھتا ہے إنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ یقینا وہی تو ہے جو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم فرمانے والا ہے۔اس آیت کے نتیجے میں جو یہ احساس ہوتا ہے ایک عام معافی کا اعلان ہے، ہر گناہ گار بخشا گیا، یہ احساس غلط ہے۔درست نہیں ہے کیونکہ بخشے جانے کے امکان کے دروازے کھولے گئے ہیں، ہر شخص کے بخشے جانے کا اعلان نہیں ہوا۔اس لئے بعض صوفیاء یا صوفیاء مزاج لوگ یہ سمجھتے ہیں بس یہ آیت ہو گئی اب ہمیں کسی عمل کی ضرورت نہیں۔سب کبائر بھی بخشے گئے ، سب صغائر بھی بخشے