خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 115
خطبات طاہر جلد 16 115 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء تھا کہ آپ چوہدری محمد عبد اللہ خان صاحب کے بعد امیر ہوئے اور اس لحاظ سے بڑی بھاری ذمہ داری تھی جو اسی معیار پہ جماعت کو رکھنا تھا جس معیار پہ وہ چھوڑ گئے تھے۔اس سلسلہ میں غلطی اس لئے ہوئی کہ کراچی جماعت کی طرف سے جو اعداد و شمار آئے اس میں بیچ کے زمانے میں حضرت چوہدری عبداللہ خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد مکرم چوہدری احمد مختار صاحب کے امیر بننے تک کا درمیانی جو عرصہ ہے اس کا ذکر ہی کوئی نہیں تھا اور وہیں سے بات شروع کی تھی اس لئے وہ باوجود اس کے کہ مجھے علم تھا مگر اس وقت فوری طور پر ذہن میں یہ بات نہیں آئی اور جو اعداد و شمار جس طرح آئے تھے اسی طرح پیش کر دیئے اور تاثر یہ دیا کہ گویا چوہدری عبداللہ خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے فوراً بعد چوہدری احمد مختار صاحب امیر بنے تھے، یہ درست نہیں ہے۔چوہدری عبداللہ خاں صاحب کا وصال 1959 ء میں ہوا ہے اور 1959 ء سے 1965 ء تک حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں شیخ رحمت اللہ صاحب امیر جماعت کراچی رہے ہیں اور با قاعدہ منتخب ہوئے۔اور پھر حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے زمانے میں پھر جو انتخاب ہوا ہے اس میں چوہدری احمد مختار صاحب امیر منتخب ہوئے۔وہ جو پچھلا دور ہے اس سے پہلے بھی شیخ صاحب کو رسمی طور پر بھی امارت کے فرائض ادا کرنے کی توفیق ملی تھی، رسمی طور پر ان معنوں میں کہ عملاً چوہدری عبداللہ خاں صاحب ہی امیر رہے ہیں لیکن امارت کے نام کے طور پر شیخ صاحب کو باقاعدہ امیر کے طور پر لکھا گیا۔اس کی حکمت یہ تھی کہ 53ء،54ء میں جو حالات تھے وہ بہت سنگینی اختیار کر گئے تھے اور چوہدری عبداللہ خاں صاحب کے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے بھائی ہونے کی حیثیت سے اور حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے آپ کے معاملات میں حکومت کی دخل اندازی کا زیادہ احتمال تھا اور اس بناء پر آپ کو خدمت سے بھی الگ کیا جا سکتا تھا کیونکہ اس سے پہلے ایک با قاعدہ صدر کا فیصلہ جاری کیا جا چکا تھا کہ کوئی بھی اعلیٰ عہدے کا ملازم، کوئی دینی مناصب پر نہیں ہوگا، اس قسم کا کچھ حکم تھا جو اس کے الفاظ تو یاد نہیں مگر اس حکم کے تابع ان کی حفاظت کی خاطر مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب کو حضرت مصلح موعودؓ نے امیر مقرر کیا اور بحیثیت امیر حکم وہی جاری کرتے تھے، عملاً وہی ساری باتیں کہتے تھے ،مگر جو ادب کا تقاضا تھا اس کے پیش نظر چوہدری صاحب کے مشورے پر ہی چلتے تھے اور اس طرح ایک زائد فرائض