خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 114

خطبات طاہر جلد 16 114 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء میں بننے والے دولہا بشیر احمد کے نانا حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب سے متعلق بات کرتے ہوئے میں نے کہا تھا مجھے یقینی طور پر یاد نہیں کہ آپ صحابی ہیں، یہ تو قطعی طور پر علم تھا کہ آپ صحابہ کی عمر کے تھے یعنی اگر آپ کی رویت ہو جاتی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ دیکھ لیتے اور آپ ان کو دیکھ لیتے تو صحابی بن سکتے تھے کیونکہ حضرت پھوپھی جان سے آپ کی عمر کا کافی فرق تھا اور حضرت پھو پھی جان کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے وقت چار سال عمر تھی تو ظاہر ہے کہ صحابیت کی عمر تو تھی اور امکان موجود تھا لیکن مجھے قطعی طور پر یاد نہیں تھا کہ آپ کو قادیان آکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت ملی بھی کہ نہیں۔جیسا کہ پہلے بھی بعض صحابہ کے متعلق میں بیان کر چکا ہوں ، عمر تو رہی مگر صحابیت کی توفیق نہیں ملی۔اس سلسلے میں مولوی دوست محمد صاحب نے جیسا کہ میں نے ہدایت دی تھی کہ مجھے فوری طور پر اطلاع بھیجی جائے ، واقعات دیکھ کر انہوں نے جو تحریری اطلاع کی ہے وہ کہتے ہیں کہ نواب محمد عبد اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دسمبر 1959ء کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا خط غالبا اس شعبہ کو بھیجا ہے جس نے صحابہ کا ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے اس میں ان کی تحریر یہ ہے میں اس سیر میں بھی تھا جس میں حضور علیہ السلام کے ساتھ سات سو افراد سیر کے لئے جلسے کے موقع پر گئے تھے۔ریتی چھلے میں ایک لسوڑھے کا درخت تھا، حضور اس کے نیچے ٹھہرے اور فرمانے لگے کہ اب اس قدر احباب کی تعداد ہے کہ چلا نہیں جاتا ، غالباً یہ آخری جلسہ سالانہ حضور کے زمانے کا تھا۔پس معیت بھی نصیب ہوئی اور واقعہ پوری طرح یاد تھا اس لئے آپ کو صحابہ میں شمار کرنے میں کوئی بھی تردد نہیں ہونا چاہئے۔پس آپ صحابہ نہی میں شامل تھے اس لئے اب ان کے متعلق میں نے رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعا ساتھ شامل کر دی ہے۔اسی طرح ایک اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا حوالہ بھی بھیجا ہے وہ لکھتے ہیں ”اخویم نوابزادہ میاں عبداللہ خان صاحب ، حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے فرزند ہونے کی وجہ سے صحابی ابن صحابی تھے۔یعنی صحابیت کی گواہی تو دی ساتھ لیکن یہ زائد بات کہی کہ آپ صحابی ابن صحابی تھے۔ایک امر تصحیح طلب ان معنوں میں ہے کہ تاریخی نقطہ نگاہ سے ایک غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ کراچی رحمہ اللہ کے وصال پر میں نے بیان کیا