خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد 16 111 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء کے نرغے میں مبتلا ہے اور پھر بھی گھٹنوں کے بل اور کہنیوں کے بل کوشش کر رہا ہے کہ دم نکلے تو خدا کے پاک لوگوں میں نکلے۔یہ وہ نظارہ ہے جس کے بعد یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف نہ فرمائے۔پس یہ کیفیت اپنے اوپر طاری کریں تو یہ جمعتہ الوداع آپ کے لئے ایک اور معنی میں جمعۃ الوداع بنے گا۔یہ بدیوں کے لئے وداع کا جمعہ بن جائے گا، نیکیوں کے لئے نہیں۔ان معنوں میں وداع نہیں رہے گا کہ آپ نے آج پڑھا اور چھٹی ہوئی اور پھر اگلے سال تک آپ کو کسی جمعہ یا نیکی کی توفیق نہ ملی۔یہ جمعۃ الوداع آپ کی بدیوں کو وداع کرنے کا جمعہ بن جائے گا۔ہر اس چیز کو وداع کرنے کا جمعہ بن جائے گا جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہے۔ہر اس چیز کے استقبال کا جمعہ بن جائے گا جو خدا کو پسند ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین خطبہ ثانیہ سے قبل حضورانور نے فرمایا: اس جمعہ میں جو دعا ئیں آپ کو بتائی گئی ہیں امام صاحب نے اس سے پہلے جو مجھے آواز پہنچ رہی تھی آپ کو دعاؤں کی طرف توجہ دلائی تھی ان کو یا درکھیں مگر وہ محض انفرادی دعا ئیں تھیں زیادہ تر توجہ اجتماعی دعاؤں کی طرف کریں۔سارے بنی نوع انسان کے لئے دعائیں کریں۔تمام جماعت احمدیہ کے مفادات کے لئے دعائیں کریں۔ان تمام نقصانات سے بچنے کے لئے دعائیں کریں جو جماعت کی راہ میں اتفاقا یا گھات لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور بالا ارادہ شرارت کے ساتھ پیدا ہور ہے ہیں۔تو یہ جو وقت ہے جمعتہ الوداع کا یہ بہت برکتوں والا وقت ہے اس سے کوئی انکار نہیں۔مگر جہاں اپنے لئے وہ دعائیں کریں میں نے ابھی جن کی طرف متوجہ کیا ہے وہاں بنی نوع انسان کے لئے دعائیں کرنا، اسلام کے اعلیٰ تقاضوں کے لئے دعائیں کرنا، احمدیت کے حق میں اور ہر شر سے بچنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانے اور رہنے کی دعائیں کرنا ، ان دعاؤں کو خصوصیت سے اہمیت دیں تو چھوٹے موٹے روزمرہ کے جو آپ کے کام اور ضرورتیں ہیں وہ ان دعاؤں کے سائے میں آپ ہی آپ ٹھیک ہو جایا کرتی ہیں۔یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ کا دل اللہ کے کاموں میں اٹک جائے اور اللہ کے مفادات کی طرف دعاؤں میں توجہ پیدا ہوتو بسا اوقات اپنے لئے دعا مانگیں یا نہ مانگیں اللہ تعالیٰ خود ہی ان باتوں کا دھیان کرتا ہے۔