خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد 16 بھی نہیں کر سکتا۔5 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء قدر مشترک خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إلَى أَنَّمَا الهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ (الكهف : 111) کہ تو کہہ دے کہ میں تمہاری طرح کا ہی ایک بشر ہوں اس لئے جتنی ترقی میں نے کی ہے صلاحیت کے لحاظ سے تمہیں اس سے محروم نہیں رکھا گیا۔تم نہیں کہہ سکتے کہ میں اور قسم کا انسان تھا یعنی بشریت کی صلاحیتوں کے لحاظ سے تمہیں سب کچھ دیا گیا ہے جو مجھے بھی دیا گیا تھا مگر مجھے وحی نے ایک نئی زندگی عطا کر دی اور وحی بھی بغیر کسی استحقاق کے نہیں تھی۔یعنی رسول اللہ ﷺ کی نظر سے دیکھیں یا انسان کی نظر سے دیکھیں تو استحقاق کوئی دکھائی نہیں دیتا مگر اللہ کا کوئی فیصلہ بھی بغیر حق کے نہیں ہوا کرتا ان معنوں میں میں کہہ رہا ہوں کہ وحی بھی استحقاق سے تعلق رکھتی ہے۔اگر چہ آخری بار یک نظر سے دیکھیں تو حق وق سب اڑ جاتا ہے صرف مالک ہی دکھائی دیتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے اپنے لئے بھی تو کچھ عدل کے ایسے قوانین بنارکھے ہیں جو درحقیقت احسان سے تعلق رکھتے ہیں مگر ہماری زبان میں وہ عدل کہلائے گا کیونکہ خدا کا عدل جن چیزوں پر مبنی ہے وہ ساری اس نے عطا کی ہوئی ہیں۔اس لئے خدا کے عدل کی بنیا د احسان پر ہے اور بندے کے عدل کی بنیاد حقوق پر ہے ان دو چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے۔تبھی میں نے کہا تھا کہ مالک کا مضمون ہے جو درحقیقت ایک غالب مضمون ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے۔مگر اس خطبہ میں اس کی تفصیل میں اگر گیا تو یہ مضمون جو میں آج بیان کرنا چاہتا ہوں یہ ادھورا رہ جائے گا۔پس یا درکھیں کہ اگر چہ نبوت وہی ہوا کرتی ہے مگر اس کے باوجود اس کے اندر عدل کا ایک مضمون ہے اور عدل کا مضمون احسان کے پلیٹ فارم پر ، اس کی سرزمین پر قائم کیا گیا۔ہر چیز جوخدا نے دی ہے احسان ہی کے طور پر دی ہے اور پھر اس میں یہ عدل قائم کر دینا یہ اس کی عجیب شان ہے۔پس اس پہلو سے خدا تعالیٰ نے جو انسان کو عدل اور احسان کی تعلیم دی ہے انسان کے عدل کا قدم نیچے سے اٹھتا ہے اور احسان پر جاتا ہے اور احسان کے بعد پھر ایک اور عدل اس میں سے پیدا ہوتا ہے جس سے محسنین پیدا ہوتے ہیں۔مگر بہر حال حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات کا جہاں تک تعلق ہے وہ ہر آگے بڑھنے والے سے اتنا آگے بڑھ گئے کہ جیسے دور افق میں کوئی ڈوب جائے اور پھر دکھائی نہ دے مگر جو قدر مشترک ہے وہ بیان کر گئے اس کو خوب کھول دیا تا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ بے وجہ آگے