خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 101

خطبات طاہر جلد 16 101 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء کے حضور جھکتے ہوئے رات کی کچھ گھڑیوں میں سجدے کرتا ہے اور کھڑا رہتا ہے۔يَحْذَرُ الْآخِرَةَ اور آخرت سے ڈرتا رہتا ہے۔وَيَرْجُوا رَحْمَةَ رَبِّهِ اور اللہ کی رحمت کی امیدیں لگاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت سے نیک توقعات رکھتا ہے کہ ہمیں بھی یہ نصیب ہو جائے۔فرمایا قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُونَ کیا جانے والے نہ جاننے والوں کے برابر ہو سکتے ہیں۔کیا عالم لوگ بے علم لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں یا بے علم لوگ عالم لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں؟ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔علم کے اندر جو فضیلت اور برکت ہے وہی تو ہے جس نے دنیا کو مختلف حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔جو دنیاوی علم میں ترقی کرنے والی قو میں ہیں دیکھو وہ کس اعلیٰ حال تک جا پہنچی ہیں۔دولتیں بھی ان کی ہیں، سیاستیں بھی ان کی ہیں، تہذیبیں بھی انہی کی ہو گئیں، وہی ہیں جو غریب ملکوں کو جو لا علم ہیں دراصل، علم کی کمی کی وجہ سے غریب ہیں ان کو اپنے زیر نگیں کئے ہوئے ہیں۔ان کی باگیں ان کے ہاتھ میں ہیں۔جب بھی کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہو جائے تو باہر سے لوگ جاتے ہیں اور باہر سے جا کر فیصلے کرتے ہیں کہ ملک کا کیا حال ہے۔ابھی آپ نے پاکستان کے الیکشنز میں یہ بات سنی ہوگی کہ آسٹریلیا کے نمائندوں نے فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن دیانتدارانہ ہوئے ہیں یا دنیا کے ترقی یافتہ قوموں کے نمائندوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایکشن دیانتدارانہ ہوئے۔کبھی آسٹریلیا نے بھی پاکستانیوں کو بلایا ہے یا امریکہ نے دعوت دی ہے کبھی کہ خدا کے لئے آؤ اور دیکھو کہ ہمارے الیکشنز دیانتدارانہ ہیں کہ نہیں ہیں۔اتنی ذلت ہے قوم کی کہ اس سے زیادہ آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔باہر کی تو میں ٹھیکیدار بن کے آجاتی ہیں اور آکے فیصلے دیتی پھرتی ہیں اور فیصلے بھی ایسے حال میں دیتی ہیں جب ان کو پتا ہی کچھ نہیں لگ سکتا۔ان کے اندر طاقت ہی نہیں۔وہ خدا تعالیٰ جس طرح فرماتا ہے کہ وہ ذات الصدور جانتا ہے وہ تو چہرے بھی پہچاننے کی طاقت نہیں رکھتے۔ان کو کیا پتا کہ اتنے بڑے ہنگاموں میں کیا کیا چالاکیاں ہیں جو استعمال کی جاتی ہیں اور فیصلہ ایک دے دیا ہے اور اسی کو پھر پیش کیا جارہا ہے ساری قوم کی طرف سے۔اب بتاؤ آسٹریلیا کے نمائندوں نے کہہ دیا الیکشن ٹھیک ہیں تو ہم بالکل ٹھیک ہیں۔کسی دن تم بھی بھیجو نمائندے کوئی وہاں اور وہاں کے الیکشن کے اعلان کر کے دیکھو۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ جوتیاں مار کے نکال دیں گے مگر حال وہی کریں گے جیسے جو تیاں ماری جارہی ہوں کہ تم ہوتے کون ہو