خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 100 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 100

خطبات طاہر جلد 16 100 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء ہے اور وہ گناہ جو خدا نہیں بخش سکتا وہ آنحضرت علی بخشوالیں گے۔یہ تصور جس قوم کو دے دیا جائے اس کا دین بھی گیا، اس کی دنیا بھی گئی ، کچھ بھی اس کا باقی نہیں رہتا۔پس بحیثیت احمدی آپ بیدار ہوں۔اگر آپ نماز میں نہیں پڑھتے رہے تو یہ جمعہ خدا کرے آپ کے کام آجائے۔مگر آئے گا اس طرح کہ اس جمعہ کے بعد آپ کی کیفیت بدل جائے پھر آپ ہمیشہ خداہی کے ہو جائیں یا ہونا شروع ہو جائیں۔خدا کا ہو جانا تو ایک بہت بڑا کام ہے، بہت ہی بڑا دعوی ہے لیکن ہونا شروع ہو جانا تو کوئی مشکل کام نہیں۔ایک سمت میں آپ کچھ قدم اٹھائیں تھوڑا بہت اس کی طرف جانا شروع کریں تو باقی کام پھر اللہ خود سنبھال لیتا ہے۔پس میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں سفر جو ہے وہ مشکل کام نہیں ہے۔آج کے جمعہ کی برکت سے آج اپنے لئے دعائیں کریں، ایک اپنے لئے لائحہ عمل تجویز کریں اور اس فکر کے ساتھ آج جمعہ سے فارغ ہوں کہ ہم اس جمعہ کی برکتوں کو باقی سال میں اپنے پاس سنبھالنے کے لئے کیا کریں گے۔دیکھو اگر پیاس ہو، اگر فصلیں سوکھ رہی ہوں اور پھر پانی بر سے تو کون بے وقوف ہے جو اس پانی کو سنبھالنے کا انتظام نہیں کرتا۔اگر کسی کے پاس برتن ہیں تو وہ برتن بھرے گا۔اگر کسی نے فصل کے لئے تیاری کرنی ہے تو وہ گڑھے جن میں پانی اکٹھے کئے جاتے ہیں ان کے وہ کنارے درست کرے گا اور جہاں تک ممکن ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ اس پانی کو ایسا سنبھال لوں کہ دیر تک میرے کام آتا رہے، کچھ تو کرتا ہے انسان۔تو آپ بھی سوچیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے۔آج کا جمعہ آئے گا آپ اسے وداع کر کے واپس بعینہ انہی جگہوں پر چلے جائیں گے جہاں سے آئے تھے؟ یا آج ہی فیصلہ کریں گے کہ ہم نے کچھ تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں۔سادہ لفظوں میں جو تبدیلیاں پیدا ہونی چاہئیں جن کی ضرورت ہے وہ میں آپ کو سمجھاتا ہوں۔سب سے اہم چیز عبادت ہے کیونکہ قرآن کریم نے اپنے تعلق کو عبادت ہی کے حوالے سے بیان فرمایا ہے مگر پہلے میں باقی تیسری آیت کا ترجمہ کر لوں پھر اس مضمون پر واپس آؤں گا۔اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ أَنَا الَّيْلِ سَاجِدًا وَقَابِمَا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ - فرمایا کیا وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے ہاں بڑی فرمانبرداری کے ساتھ قانت معنی فرمانبرداری کے ساتھ ، اس