خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 98
خطبات طاہر جلد 16 98 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء کہتا ہے دیکھو اس مصیبت میں میں پھنسا تھا پھر فلاں دوست کام آگیا ، میرے فلاں تعلقات کام آگئے ۔ مجھے ایسی ترکیب سوجھی کہ میری ڈوبتی بزنس اچانک ابھری اور بہت کامیاب تجارت میں تبدیل ہوگئی۔ تمام Complements تمام وہ جو قابل تعریف باتیں ہیں وہ اپنی ذات کی طرف منسوب کرتا چلا جاتا ہے اور لوگوں کے سامنے یہ اعلان کرتا ہے کہ دیکھو ہوشیار اور چالاک آدمی دیکھو کس کس مصیبت سے بیچ کے نکل آتا ہے اس سے وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور دراصل دہر یہ وہ پہلے بھی تھا اب بھی ہے کیونکہ وہ خدا جس کی قدرتوں پر یقین ہو اس کے ساتھ انسان بے تعلق نہیں رہ سکتا، یہ آپ کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔ بہت ہی اہم گہرے نفسیاتی نکات ہیں جو ان آیات نے پیش کئے ۔ مراد یہ ہے کہ تم اگر روزمرہ کی زندگی میں اللہ سے بے تعلق رہتے ہو تو یہ تمہارا وہم ہے کہ تم خدا کے قائل ہو۔ دنیا میں جہاں بھی تمہارے مطالب حل ہوتے ہوں تو وہاں پہنچتے ہو اور ان چوکٹھوں کے حضور سر جھکاتے ہو جو دنیا کی چوکھٹیں ہیں ، بڑے بڑے سیاست دانوں کے ساتھ دوستی پر ہی فخر ہو رہا ہے اور یہ تعلق اتنا بڑھا لیا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے لوگ اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں ۔ مگر قربان کیوں کرتے ہیں؟ اپنی انا کی ہیں۔ خاطر کہ یہ ہمارا تعلق والا ہے اور اس کی وجہ سے ہماری بڑائی ہے۔ پس اس کو نقصان پہنچے تو ہمیں بھی نقصان پہنچتا ہے لیکن بے حقیقت باتیں ہیں۔ پاکستان کے الیکشن میں پچھلے دنوں میں بعض لوگوں نے خود کشیاں کر لیں، بعضوں نے خود سوزی کر لی ، آگ میں جل گئے کہ فلاں جو ہمارا محبوب تھا وہ کیوں نہ آیا اور وہ دوسرا کیوں طاقت میں آگیا ، تو یہ دنیا کی زندگی کی لعنتیں ہیں اس کے سوا ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔ پس اگر انسان جن کو بڑا سمجھتا ہو ان کے ساتھ یہاں تک سلوک کرتا ہے اگر واقعۂ خدا پر یقین ہوا اور خدا کو حقیقہ بڑا سمجھتا ہو تو کیسے ممکن ہے کہ خدا کی بڑائی سے تو منہ موڑے رکھے اور خدا کی طرف ہمیشہ روزانہ جب بھی نماز کا وقت آئے پیٹھ پھیر کر دنیا کی طرف چلا جائے اور پھر بھی اس کا خدا پر یقین قائم اور خدا کو بڑا سمجھ رہا ہے۔ پس یہ جھوٹ ہے، یہ جھوٹ کی زندگی ہے اس کی طرف متوجہ ہونا اس لئے ضروری ہے کہ امر واقعہ یہ ہے کہ جانا پھر وہیں ہے جس خدا نے ہمیں پیدا کیا، جہاں سے ہم آئے تھے اور جو نعمتیں ہمیں عطا ہوئیں اسی خدا نے عطا فرمائیں جو رب العالمین ہے اور ان نعمتوں