خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 590 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 590

خطبات طاہر جلد 15 590 خطبہ جمعہ 26 / جولائی 1996ء ہوں جنہیں وہ عمل میں پورا کرنا چاہتا ہو اور کائنات میں اس کے پاس اس کا مصالحہ موجود نہ ہو وہ مادہ موجود نہ ہو۔ایک بھی دن ایسا نہیں چڑھا۔جب انسان اتنے درجہ حرارت پر قابو پانے کے خواب دیکھنے لگا جو اس کی ضرورت بن گیا تھا یعنی لاکھوں درجے کی گرمی کی اس کو ضرورت پیش آگئی اور کوئی ایسا مادہ نہیں تھا اس کے ہاتھ میں جس مادے سے وہ برتن بنا سکے جس برتن میں وہ اس درجہ حرارت کی چیز کو سنبھالے اور اس پر تجربے کر سکے تو اس کی آنکھیں کھلیں اور خدا نے ایک اور خزانہ اس پر اتارا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( یعنی خدا تعالیٰ ) گویا فرمارہا ہے کیونکہ اللہ کے اذن سے ہی یہ خزانے نکلتے ہیں کہ تم مقناطیس کا برتن بناؤ اور مقناطیس کی قوت سے اس قسم کا مضبوط برتن بناؤ کہ مقناطیس کا برتن جو نہ دکھائی دینے والا ہے اس کے اندر لاکھوں کروڑوں درجہ حرارت کی چیزیں پگھل رہی ہوں اور کھول رہی ہوں اور ایک دوسرے سے عمل دکھا رہی ہوں لیکن وہ گر نہ سکیں کیونکہ مقناطیس کے برتن کو کوئی گرمی پگھلا نہیں سکتی اور مقناطیس میں یہ طاقت موجود ہے کہ اگر اس کا خول بنایا جائے تو اس خول کے اندر چیز ٹھہر جائے۔اب ہم بھی تو مقناطیس کی طاقت ہی سے یعنی زمین کے مقناطیس کی طاقت سے زمین پر لگے ہوئے ہیں۔ساری دنیا جو گھوم رہی ہے ساری کائنات جو ایک دوسرے سے متصل ہے وہ نہ نظر آنے والے ستون جن پر یہ کائنات قائم ہے یہ سب کچھ اس غیر مرئی زمین کی کشش ہی سے تو پیدا ہورہی ہے یہ طاقت۔ہم جو کائنات کو اور اتنے درجہ حرارت کے ستاروں کو ہوا میں معلق دیکھ رہے ہیں جس درجہ حرارت کا تصور باندھنا بھی ممکن نہیں اور جب میں یہ کہتا ہوں تو ایک درست بات کہہ رہا ہوں۔سائنس دان کو اس دنیا میں جتنی درجہ حرارت کی ضرورت پیش آتی ہے وہ تو اس درجہ حرارت کے مقابل پر کچھ بھی نہیں ہے جو ایک سمٹتے ہوئے ستارے سے پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنی تمام گرمی اور تپش کے باوجود وہ فضا میں اسی طرح معلق ہے جس طرح باقی ستارے متعلق ہیں۔کون سا برتن ہے جس نے اسے تھاما ہوا ہے۔کون سے ستون ہیں جسے آپ دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے اٹھایا ہوا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے انسان کی نظر اس طرف پھیر دی کہ ممکن ہی نہیں تمہارے لئے کہ تم اپنے شعور کوکسی ایسی چیز کے لئے بیدار کرو جو ہم نے تمہیں اصل میں سکھائی ہے لیکن تمہیں علم نہیں کہ کون سکھا رہا ہے اور پھر تمہیں مناسب حال برتن نہ ملیں ، مناسب حال اوزار نہ ملیں۔تمام مناسب حال برتن تمام مناسب حال اوز ار اسی دنیا میں موجود پاؤ گے اور ہم ان کی طرف تمہاری نشان دہی کریں گے۔