خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 993
خطبات طاہر جلد 15 993 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء سے بڑا اَجْرٌ كَرِیم اور کیا ہو سکتا ہے پھر یہ کہ صدیقیت کا مقام پا جائیں اور صدیقیت کا مقام خدا کی راہ میں خرچ بڑھانے کے نتیجہ میں اور پھر لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَ نُورُهُمْ پیچھے جب تحریک جدید کے سال کا آغاز کرتے ہوئے میں نے قرآن کریم کی ایک آیت آپ کے سامنے رکھی تھی اس میں نور کا وعدہ تھا ، اس آیت میں بھی نور کا وعدہ ہے کہ انہیں صدیقیت کا مقام بھی ملے گا ، شہادت کا مقام بھی ملے گا عِنْدَ رَبِّهِمْ اپنے رب کے حضور ۔ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَ نُورُهُمْ ان کے لئے ان کا اجر بھی ہے اور ان کا نور بھی ہے۔ اب ان کا اجر اور ان کا نور سے کیا مراد ہے؟ یہ مختصر بیان کر کے میں وقف جدید کی طرف واپس لوٹوں گا۔ اجر جو ہے وہ تو قربانیوں سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔ جس شخص میں جتنی توفیق تھی اس نے اس حد تک قربانی کی اور اللہ تعالیٰ نے اس شرط کے ساتھ کہ میں بڑھاؤں گا اور تمہاری توقعات سے بڑھ کر دوں گا اس کو پورا فرما دیا یہ تو اجر ہو گیا لیکن نُورُهُم انکا نور کیا ہے؟ دراصل ان کا نور ہی ہے جو اجر کا فیصلہ کرتا ہے اور نور سے مراد وہ دل کی پاکیزگی اور صفائی ہے جس کے ساتھ انسان ایک قربانی خدا کے حضور پیش کرتا ہے اور اَجْرٌ كَرِیم کا اس سے گہرا تعلق ہے۔ جتنا وہ نور بلند ہوگا، روشن تر ہوگا خدا کے حضور خالص ہو کر چمکے گا اسی حد تک اس کے اجر کو بڑھا دیا جائے گا اور اجر کو اعزاز بخشا جائے گا۔ پس صدیقیت کا تعلق نور سے ہے اور شہادت کا بھی تعلق نور سے ہے۔ صالحیت کا اس تفصیل سے تعلق نہیں ہے نور کے ساتھ ، جیسا ان دو مراتب کا ہے۔ اس لئے دیکھیں یہاں صرف دو ہی مراتب کا ذکر ہے صدیقیت کا اور شہادت کا اور نہ نبوت کا ہے نہ صالحیت کا ہے تو صالحیت جو عام روزمرہ کی نیکیاں ہیں انسان کو اس بلند مقام تک نہیں پہنچایا کرتیں جس کی پہلی سیڑھی شہادت ہے اور دوسری سیڑھی صدیقیت ہے اور چونکہ نبوت بالعموم اس طرح عطا نہیں ہوا کرتی وہ منصب ہی بالکل الگ ہے۔ اس لئے جہاں اللہ اور رسول کی اطاعت کی جزاء کا تعلق ہے وہاں نبوت کا ذکر سر فہرست فرمادیا لیکن جہاں روزمرہ کی مومن کی قربانیوں کا ذکر ہے۔ اس میں جو اعلیٰ درجے کی قربانیاں کرنے والے ہیں ان کو دو انعامات کا وعدہ فرمایا کہ تم میں صدیق بھی پیدا ہوں گے اور شہید بھی پیدا ہوں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑا احسان ہوگا ۔ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِايْتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ