خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 992 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 992

خطبات طاہر جلد 15 992 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء بہت زیادہ دیں گے جو تم سمجھ رہے ہو اس لئے معین کر کے ہم اپنے ہاتھ نہیں باندھتے۔حسب حالات، تمہارے اخلاص کے تقاضوں کے مطابق جتنا چاہیں گے اتنا دیتے چلے جائیں گے مگر جو بھی دیں گے تمہاری تو قعات سے بڑھ کر دیں گے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں میں یہ چیز شامل ہوتی ہے اس کے سوا ایک بھی خدا کا وعدہ نہیں ملتا جو محسنین سے یا اس کی راہ میں خدمت کرنے والوں سے کیا گیا ہو اور اس میں ان توقعات سے بڑھ کر دینے کا مضمون شامل نہ ہو۔چنانچہ فرمایا: تُضْعَفُ لَهُمُ اور ان کے لئے بڑھا دیا جائے گا۔وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيم اور ان کے لئے معزز اجر بھی ہو گا یعنی اجر گریم سے مراد جیسا کہ ایک اور آیت کے حوالے سے میں نے بیان کیا تھا ان کو اموال ہی میں برکت نہیں دی جائے گی ، ان کی عزتوں میں بھی برکت دی جائے گی ، ان کو معزز بنایا جائے گا اور کریم سے مراد بھی بھی ہے۔وہ شخص جو اعلیٰ اقدار کی خاطر دل کھول کے خرچ کرتا ہے۔تو أَجْرٌ كَرِيمٌ خدا سے متوقع ہے اور وہ اجر گریم ان کو بھی کریم بنانے والا ہوگا۔وَالَّذِينَ آمَنُوْا بِاللهِ وَرُسُلِة أُولَيكَ هُمُ الصِّدِّيقُوْنَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمُ اب یہاں لفظ صدیق کا استعمال اتفاقی نہیں ہے۔دیکھیں نبوت کا یہاں ذکر نہیں ملتا۔صدیق اور اس کے بعد شہداء کا ذکر فرمایا اور مُصَدِّقِينَ اور مُصَدِّقَات کا مادہ وہی ہے جو صدیق کا ہے اور مُصَدِّقَات اور مُصَدِّقِينَ میں جو باب استعمال فرمایا گیا ہے اس میں کچھ مبالغے کے معنی ضرور پائے جاتے ہیں۔وہ لوگ جو بکثرت صدقہ دینے والے ہیں، جو بکثرت صدقہ دینے والیاں ہیں وہ چونکہ اپنے نیک اعمال میں اور خدا کی خاطر دل کھولنے میں ایک نمایاں منصب پاگئے ، نمایاں صورت اختیار کر گئے اس لئے اللہ کی طرف سے بھی ان سے نمایاں اجر کا وعدہ ہونا چاہئے تھا۔پس جہاں اَجر گریم فرما دیا اس سے اگلی آیت ہی میں ایک ایسا مضمون بیان فرمایا ہے جو نبوت سے نیچے سب سے اعلیٰ منصب کا وعدہ کر رہا ہے۔چنانچہ فرمایا وَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رُسُل ہے جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے رسولوں پر یعنی یہی لوگ ہیں جن کی ایک مزید تعریف یہ فرما دی گئی ہے کہ ان کا خرچ محض اپنی ذاتی کرامت سے نہیں ہے بلکہ اللہ اور رسول پر ایمان کے نتیجہ میں یہ پیدا ہوا ہے۔فرمایا: ھم الصَّدِّيقُوْنَ وَالشُّهَدَاءُ اس معیار کے لوگ وہ ہیں جن کو ہم صدیق شمار فرمائیں گے اور اس