خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 985 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 985

خطبات طاہر جلد 15 985 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء ہونے کے باوجود رفق کا مقابلہ نہیں کر سکتی ، نرمی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔دوسرا معنی اس کا یہ ہے کہ سخت گیری کی پکڑ کم کرتا ہے اور رفق کا بدلہ زیادہ دیتا ہے کیونکہ جزاء کا معنی موقع اور محل کے مطابق ہوگا۔پس سخت گیری کی اتنی جزا نہیں دیتا جتنی رفق کی دیتا ہے اور یہ اگر تر جمہ کیا جائے تو بالکل یہی ترجمہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ پکڑ کے وقت ہاتھ نرم کر دیتا ہے اور نرمی کے سلوک کے وقت ہاتھ کو کھلا کر دیتا ہے اور یہ بھی رفق کا ہی تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا رفیق ہونے کی ایک یہ بھی شان ہے کہ سخت گیری میں بھی رفیق رہتا ہے ورنہ اگر لوگوں سے سخت گیری اسی طرح کرتا جیسا کہ موقع اور محل کا تقاضا تھا کہ سخت گیری کی جائے پھر تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی جان دار باقی نہ رہتا تمام زندگی کی صف لپیٹ دی جاتی۔تو یہ دوسرا معنی بھی چونکہ قرآن کے مطابق ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی جائز ہے کہ سخت گیری کا سختی سے بدلہ بہت کم دیتا ہے اور تم نرمی کرو گے تو بہت زیادہ اس نرمی کی جزاء دے گا ، اتنی زیادہ کہ گویا تمہارے عمل کے ساتھ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں رہے گی۔پھر سخت گیری اور بدخلقی کے متعلق آپ فرماتے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے جو میں پڑھ رہا ہوں۔(البدر جلد 3 نمبر 19-18، تاریخ 8 تا 16 مئی 1904 صفحہ 3) فرماتے ہیں:۔سخت دل ہر ایک فاسق سے بدتر ہوتا ہے 66 اب اس سے آپ اندازہ کریں کہ سخت گیری کتنا بڑا گناہ ہے۔سخت دلی انسان کو ہر فاسق سے بدتر کر دیتی ہے اور ہمیشہ فسق و فجور کے باوجود قوموں کو باقی رکھا مگر جب ان کے دل سخت ہو گئے تو پھر خدا کا عذاب ان پر نازل ہوا ہے۔یہود کی تاریخ ہمارے سامنے گواہ ہے فرمایا ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ (البقرہ :75) تم نے بدیاں کیں خدا نے باوجود اس کے عفو کا سلوک فرمایا، مغفرت فرمائی۔بدیوں پر بدیاں دیکھتا رہا مگر تمہیں پکڑا نہیں مگر جب تم سخت دل اور پتھر دل ہو گئے پھر خدا کا غضب تم پر نازل ہوا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام بھی قرآن کریم پر مبنی کلام ہے احادیث نبوی پر مبنی کلام ہے۔اپنی طرف سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کوئی بات بھی نہیں کہتے۔تو یہ معنی ہے ہر فاسق سے بدتر ہوتا ہے۔تمہارے گناہ خدا تعالیٰ کے مغفرت کی نیچے رہیں گے اگر تمہارے دل میں خوف خدا ہو ، کوشش ہو، تو بہ کی طرف توجہ ہو۔مگر اگر تم پتھر دل بن گئے پھر کوئی بخشش تمہیں نصیب نہیں