خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 984 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 984

خطبات طاہر جلد 15 984 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء بنتا ہے یعنی وہ ایسا نرم ہے کہ تم لوگوں کی طرف سے بار بارایسی باتیں دیکھتا ہے جو خدا تعالیٰ کی دوستی اور تعلق کو کاٹنے والی باتیں ہوں لیکن رفیق ہے، جو اس کا رفیق ہے وہ ہلتا ہی نہیں۔پس یا حفیظ، یا عزیز یا رفیق میں رفیق کے یہ معنی ہیں کہ اے ایسا پیار کرنے والے! اے ایسے ساتھی ، جس کو بار بار اپنے بندوں کی طرف سے تکلیف دہ باتیں پہنچیں۔جس کے بعد رفق باقی نہیں رہا کرتا پھر بھی وہ رفیق رہتا ہے۔یہ صفت اگر بندہ اپنے اندر پیدا کرے تو حقیقی معنوں میں خدا اس کا رفیق ہو جاتا ہے لیکن اگر خدا کے بندوں کے تعلق میں وہ یہ بات پیدا نہ کرے تو خدا کی رفاقت بھی اس کو نصیب نہیں ہوتی۔پس خدا کے تعلق میں رفیق برابر کی چوٹ دونوں طرف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا سلوک فرمایا کہ بندوں کے ساتھ تم رفیق ہو جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو تو میں تمہارا رفیق ہو جاؤں گا کیونکہ خدا سے حسن سلوک تو آپ کر ہی نہیں سکتے۔تو خدا کی رفاقت نصیب کرنے کا کتنا آسان رستہ بتادیا کہ بندوں کے تعلق میں تم رفاقت کرو اور تمہیں میں اپنی رفاقت عطا کر دوں گا۔لا يعطى على العنف ولا يعطى على ما سواه (صحيح مسلم ، كتاب البر والصلة و الادب ،باب فضل الرفق) کہتے ہیں خدا رفق کا بدلہ ایسا دیتا ہے اور اتنا دیتا ہے کہ سخت مزاجی اور سخت گیری اس کے بدلے کی اس سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی یعنی اس کا ترجمہ کرنا ان معنوں میں مشکل ہو رہا ہے کہ سخت گیری کا تو بدلہ دیتا ہی نہیں۔پس اگر میں یہ کہوں کہ رفق کا بدلہ اتنا دیتا ہے کہ سخت گیری کا نہیں دیتا تو یہ معنی اس کے بنتے نہیں کہ نیکی کی جزاء اتنی دیتا ہے کہ بدی کی نیک جزاء اتنی نہیں دیتا۔اس لئے میں طبعاً یہاں ٹھہر گیا اور سوچ رہا تھا کہ کس طرح اس مضمون کو بیان کروں۔اصل مطلب یہ ہے کہ سخت گیری کا جہاں حق بھی ہو وہاں سخت گیری کا استعمال بر محل بھی ہو تو اس کا فائدہ اتنا نہیں پہنچتا انسان کو جتنا رفق کے، نرمی کے استعمال سے فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ یہ طرز کلام ایسی ہے کہ اس پر ٹھہر کر غور کر کے ترجمہ نہ کریں تو بالکل غلط ترجمہ ہو جائے گا جیسا کہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔چنانچہ لکھا یہ ہوا ہے کہ خدا نرمی کا جتنا اجر دیتا ہے سخت گیری کا نہیں دیتا تو گویا سخت گیری کا بھی کچھ نہ کچھ تو دیتا ہے اجر۔یہ مراد نہیں ہے۔وہی معنی بنتے ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ یا تو یہ معنی بنیں گے کہ سخت گیری برمحل ہو تو اس کی جزاء بھی انسان کو ملتی ہے مگر رفق کی جزاء تو بالکل اور ہی بات ہے سخت گیری برمحل