خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 983
خطبات طاہر جلد 15 983 خطبہ جمعہ 20 دسمبر 1996ء نہیں کہے گا کہ میں ایسا ہوں اور میں ایسا ہوں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ حکم دے کہ تو اپنا تعارف صلى الله کروا۔ آنحضرت ﷺ اس حکم کے بغیر اپنا تعارف نہیں کروایا کرتے تھے لیکن دوسروں کو فرماتے تھے ۔ کہ دیکھو تم قریب رہنا۔ ھین ہونالین ہونا ہنرمی اختیار کرنا ایسا کہ سہل ہو جاؤ جیسے چٹیل میدانوں میں لوگ آسانی سے دوڑتے پھرتے ہیں کوئی چڑھائی کا خطرہ نہیں ، کوئی اترائی کا خطرہ نہیں۔ نہ گڑھے، نہ ایسی بلندیاں جن پر چڑھنا دشوار ہو ، اس طرح حضور اکرم ﷺ اپنے صحابہ اپنے گردو پیش کے لئے اتنے آسان ہو گئے تھے کہ گویا سھل بن گئے ۔ فرمایا ایسے شخص پر یقینا آگ حرام کر دی گئی ہے۔ صلى الله علیه حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا کسی چیز میں جتنا بھی رفق اور نرمی ہوا تنا ہی اس کے لئے زینت کا موجب بنتی ہے۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں ان الرفق لا يكون في شيء الا زانه ولا ينزع من شيء الا شانه (صحیح مسلم ، كتاب البر والصلة و الادب ، باب فضل الرفق ) یہاں شان کا مطلب وہ شان و شوکت نہیں جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے، یہ شان لفظ ہے ہمزے کے ساتھ جس کا مطلب ہے برائی ، شئون بدیوں کو اور برائیوں کو کہتے ہیں، مگر وہ باتیں۔زان ہے کا لفظ زینت سے نکلا ہے فرمایا یقیناً نرمی ایسی چیز ہے کہ جس چیز میں بھی ہو اس کے لئے زینت کا موجب بن جاتی ہے اور جس میں نہ ہو، جتنی اس سے کھینچ کے باہر کر دی جائے اتنا ہی اس کو عیب دار کر دیتی ہے اس کے اندر نقائص پیدا کر دیتی ہے مگر نرمی بھی برمحل اور موقع کے مطابق ہونی ضروری ہے۔ اس مضمون کو آگے الگ کھولا جائے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ یہاں نرمی کرنے والا جو لفظ استعمال ہوا ہے، وہ رفیق ہے دراصل ۔ ہم خدا تعالیٰ کو جب رفیق کہتے ہیں یا حفیظ یا عزیز ، یا رفیق تو رفیق کا معنی دوست کا بھی ہوتا ہے۔ رفیق حیات، رفیقہ حیات ، زندگی بھر کا دوست ، زندگی بھر کی دوست ، یہ لفظ رفیق سے نکلا ہے اور دوستی کے لئے رفیق ضروری ہے یعنی ایسی نرمی کہ کبھی سختی بھی برداشت کر لی ۔ کبھی دوسرے سے بھی مطالبے ہوئے تو اس نے برداشت کر لیا آپ کی بات کو ۔ دونوں طرف رفق ہو تو رفیق بنتا ہے ور نہ نہیں بنتا۔ تو اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور اللہ تعالیٰ کے تعلق میں رفیق کا یک طرفہ صرف حقیقت میں معنی