خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 981 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 981

خطبات طاہر جلد 15 981 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء صلى الله سے بڑھ کر اور کون عالی اور کبیر ہے وہی سب سے اعلیٰ ، وہی اکبر لیکن سب سے قریب خدا ہے اسی لئے خدا تعالیٰ کی صفات میں بظاہر دو متضاد صفات بیان کی جاتی ہیں وہ سب سے بعید بھی ہے اور سب سے قریب بھی ہے اور آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر کسی انسان کا تصور بھی کوئی انسان نہیں کر سکتا بلکہ رسول اللہ ﷺ کی بڑائی کا تصور اکثر انسانوں کے بس کی بات نہیں جیسے دور افق میں دیکھتے دیکھتے آپ کی نظر گویا فضاؤں میں تحلیل ہو جاتی ہے ڈوب جاتی ہے اور آگے پھر کچھ دکھائی نہیں دیتا اسی طرح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی عظمتیں اور رفعتیں ہیں کہ ان کو دیکھتے دیکھتے انسان کی نظر غائب ہو جائے گی مگر جن کو خدا توفیق نہ عطا فرمائے ان کو رسول اللہ ﷺ کی رفعتیں دکھائی نہیں دے سکتیں اس کے باوجود سب سے قریب تھے۔ان تمام انعامات کے باوجود جو خدا نے آپ پر فرمائے اور آپ کو افضل المخلوقات قرار دیا، آپ کو کائنات کی وجہ، جس وجہ سے کائنات کو پیدا کیا ہے فرمایا اور سب سے پہلے آپ کی تخلیق بیان فرمائی،سب سے آخر آپ کو کھا یعنی مقصود کے طور پر ، مقام کے لحاظ سے سب سے بلند اور عام لوگوں کے اس طرح قریب تھے کہ آدمی حیران ہوتا ہے وہ واقعات پڑھ کر، ان کے درمیان گھومتے پھرتے ، چھوٹے سے چھوٹا انسان بھی آپ سے بات کرتا تھا تو ٹھہر جاتے تھے، توجہ سے اس کی بات سنا کرتے تھے، بوڑھی عورتیں آپ سے اس طرح بات کرتی تھیں جیسے بڑا حق ہوتا ہے آپ کے اوپر ، اپنے بوجھ آپ پر ڈال دیا کرتی تھیں۔یتیم بچے آپ سے ایسی باتیں کرتے تھے جیسے ان کے باپ سے بڑھ کر جو فوت ہو گیا حضرت محمد رسول اللہ لیے ان کے ذمہ دار ہیں اور تھے بھی۔ہر شخص آپ کے قریب تھا یعنی ان معنوں میں کہ آپ اُس کے قریب تھے ورنہ جہاں تک مراتب کی دوری ہے وہ تو اتنی تھی کہ اس پہلو کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کوئی صحابی بھی آپ کے قریب نہیں تھا کیونکہ انبیاء سے بھی آپ اُونچے تھے۔پس یہ وہ قریب کے معنی ہیں جن پر غور کرنے کے بعد آپ کو اپنی زندگی کو ڈھالنے میں مدد ملے گی۔آپ کو جتنی بلندی حاصل ہو، جتنا مرتبہ بڑا ملے، جتنی دولت ملے جتنی حکومت کا بلند مقام حاصل ہو آپ اتنا ہی بنی نوع انسان پر جھکتے چلے جائیں اور قریب ہوتے چلے جائیں۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس قرب کے بغیر آپ تکبر سے بچ نہیں سکتے اور تکبر والا انسان جنت میں داخل نہیں ہوسکتا، آگ سے بچ نہیں سکتا۔پس قریب ہونے سے آگ سے بچنے میں یہ مفہوم داخل ہے کہ اگر تم قریب ہو تو تم میں کوئی