خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 980 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 980

خطبات طاہر جلد 15 980 خطبہ جمعہ 20 /دسمبر 1996ء اب یہ انداز بیان دیکھیں کتنا لطیف ہے اور ایسا کہ ٹھہر کر غور کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔قریب کس کو کہتے ہیں ہر اس شخص پر جو لوگوں کے قریب ہے ان کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے نرم سلوک کرتا ہے جو الفاظ ہیں آنحضرت ﷺ کے وہ یہ ہیں تحرم على كل قريب هين لين سهل " (ماخوز از مسند احمدبن حنبل ،مسند المكثرين من الصحابة ،مسند عبد الله بن مسعود ، حدیث نمبر : 3928) آگ حرام ہے ہر اس شخص پر جو قریب ہے۔اب قریب کس کو کہتے ہیں ہم ایک دوسرے کے قریب ہیں ، ہر آدمی کسی اور کے قریب ہے، کوئی کسی کے قریب ہے تو قریب کا کیا مطلب ہے؟ اس قریب کا وہ مطلب ہے جو قرآن نے بیان فرمایا ہے۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيب کہ اے محمد ه جب تجھ سے میرے بندے سوال کریں۔فَإِنِّي قَرِيبٌ تو میں تو ہر وقت قریب رہتا ہوں ضرورتیں پوری کرنے کے لئے قریب ہوں ان کی تکلیفیں دور کرنے کے لئے قریب ہوں۔ان کی حاجت روائی کے لئے قریب ہوں اور ان کی اصلاح کے لئے قریب ہوں، یہ قرب ہے جن معنوں میں قریب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔تو اگر اللہ قریب ہے اور آپ بھی اللہ کی طرح قربت کے رنگ اختیار کر لیں تو کیسے ممکن ہے کہ اللہ ایسے شخص کو آگ میں ڈال دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو فرمایا جو بارہا میں ذکر کر چکا ہوں مگر اس ذکر سے میں تھک نہیں سکتا۔آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار ( در مشین اُردو : 154) تو جن کے دل میں خدا کا پیار ہو ان پر آگ حرام کر دی جاتی ہے اور جو قریب ایسے ہوں جیسے خدا قریب ہوتا ہے خدا سے قربت کے رنگ ڈھنگ سیکھ کر قریب ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ان کو آگ چھوٹے گی بھی نہیں پس ان معنوں میں آپ بنی نوع انسان کے قریب ہو جائیں۔بعض لوگ بڑے مراتب تک پہنچتے ہیں تو بنی نوع انسان سے دور ہو جاتے ہیں بعض لوگ امیر ہو جاتے ہیں دولت مند ہو جاتے ہیں تو بنی نوع انسان سے دور ہو جاتے ہیں غرضیکہ اکثر انسان اپنی بڑائی کی علامت یہ سمجھتے ہیں کہ بنی نوع انسان سے دور ہو جائیں لیکن سب سے بڑا تو خدا ہے اللہ تعالیٰ