خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 969 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 969

خطبات طاہر جلد 15 969 خطبہ جمعہ 13 /دسمبر 1996ء اپنے نفس کی خاطر کچھ کرنے سے محروم رہتے ہیں تو احساس محرومی ہے اور ایک غصہ اتارنے کا موقع ہے مگر مجبوری سے ضبط کیا جاتا ہے اور اتر تا نہیں ان کو بیماریاں لگا کرتی ہیں۔جو بالا رادہ غصہ ضبط کرتے ہیں ان کو بیماریاں نہیں لگا کرتیں۔پس جو کھولتے رہتے ہیں دل چاہتا ہے کہ غصے کو اتارنے کا موقع ملے تو پھر ہم یوں ڈسیں اور یوں بدلے اتاریں وہ ذہنی مریض ہوا کرتے ہیں۔اس لئے اگر نفسیات نے ، میں نے کہا، آپ کو یہ پڑھایا ہے تو غلط پڑھایا ہے، بالکل غلط ہے انسانی نفسیات کا یہ نظر یہ کہ اپنے شوق سے، دسترس رکھتے ہوئے ، چاہتے ہوئے آپ اپنا ہاتھ روک لیں تو آپ نفسیاتی مریض بن جائیں گے۔نفسیاتی مریض نہیں ہوں گے بلکہ آپ کی نفسیات کو ایک مزید طاقت عطا ہوگی اور انسانی نفس جو بھی جس چیز کا بھی آپ نام رکھتے ہیں وہ ارتقائی منزلیں طے کرتا ہے اس سے۔اس کو مزید حو صلے ملتے ہیں مگر اس کو چھوڑ بھی دیں تو جو رضائے باری تعالیٰ نصیب ہو رہی ہے اس نے احساس محرومی کون سا رکھا ہے باقی۔اگر ضبط اللہ کی خاطر ہے اگر کسی نعمت کو حاصل کرنے سے آپ ویسے ہی رک جاتے ہیں خدا کی خاطر ، چاہتے ہوئے ، دسترس رکھتے ہوئے رک جاتے ہیں اس کی جزاء تو مل گئی ہے اور جزاء اس سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے کیونکہ یہ طوعی زندگی ہے، مجبوری کی زندگی نہیں۔طوعی زندگی کے مضامین ہی مختلف ہیں جب آپ ایک چیز چھین سکتے ہیں کسی سے اور نہیں چھینتے تو اس سے احساس محرومی نہیں پیدا ہوتا اور اگر اس لئے نہیں چھینتے کہ جود یکھ رہا ہے آپ کو وہ آپ سے زیادہ پیار کرے گا تو احساس محرومی تو در کنار آپ کو اس کے بالکل برعکس اس چیز سے بڑھ کر پیار اور محبت کی دولت مل جاتی ہے تو آپ کو نفساتی بیماری کس چیز کی لگے گی۔تو اس قسم کی نفسیاتی بیماریوں کے تصور کو پاؤں تلے پامال کرتے ہوئے محمد رسول اللہ ﷺ کے صراط مستقیم پر آگے بڑھیں اور ایک ایک کر کے یہ اخلاق آنحضرت ﷺ سے سیکھیں جن کی تفاصیل قرآن نے خوب کھول کر بیان کر دی ہیں اور حدیثوں نے بھی اس مضمون کو محفوظ کر دیا ہے، اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین