خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 968
خطبات طاہر جلد 15 968 خطبہ جمعہ 13 /دسمبر 1996ء ہو جاتی ہیں مگر محبت میں تو کوئی حد ہی نہیں ہے۔پیار کی خاطر سب سودے آسان ہو جاتے ہیں۔سب قربانیاں معمولی اور ہلکی دکھائی دیتی ہیں اور اس کے نتیجے میں پھر کوئی چیز بڑی رہتی ہی نہیں خواہ جتنی بڑی قربانی ہو۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو عاجزی کا آخری مقام نصیب ہوا ہے۔آپ نے جو کچھ بھی کیا اللہ کی محبت میں کیا اور اللہ کی محبت کی جزاء اتنی زیادہ تھی کہ جو کیا وہ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا اور جو تکلیفیں اٹھا ئیں وہ اس محبت کی وجہ سے آسان اور کچھ بھی نہ رہیں، باقی ہی نہ رہیں گویا کہ تو اس لئے جب حضور ا کرم راتوں کو کھڑے ہو کر ساری ساری رات خدا سے بخشش طلب کیا کرتے تھے، فضل مانگا کرتے تھے تو یہ مضمون ان کو سمجھ آہی نہیں سکتا جو اس محبت کے مضمون اور اس عجز کے مضمون کو نہ سمجھیں جو محبت کے نتیجے میں پیدا ہونا لازم ہے۔اللہ سے محبت کی خاطر جو کچھ کیا، کیا اور محبت کی جزاء ایسی نازل ہوئی کہ آپ کے سارے وجود کو اس نے لپیٹ لیا۔ساری زندگی محمد رسول اللہ ﷺ کی خدا کی گود میں پلی ہے تو پھر جو کچھ کیا تھاوہ تو لگتا تھا کچھ بھی نہیں ہوا، تکلیف کون سی پہنچی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس مضمون کو یوں بیان فرماتے ہیں: ابتداء سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے صلى گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار (در مشین : 126) تو نے تو مجھے گود سے اتارا ہی کبھی نہیں۔جس طرح ایک دودھ پیتا بچہ ہے وہ ماں کی گود میں رہتا ہے اور وہی اس کی جنت ہے میں اس تیری گود میں پلا ہوں، غیر کے دکھ مجھے پہنچ ہی نہیں سکتے تھے یعنی پہنچے تو بے ضرر ہو کر پہنچے۔تیری حفاظت میں مجال تھی کسی غیر کی کہ مجھے حقیقی دکھ پہنچا سکے، پہنچاتے رہے مگر تیری محبت ان کو رحمت میں تبدیل فرماتی رہی اور تسکین قلب میں تبدیل فرماتی رہی۔پس محبت کے مضمون کو سمجھ کر اس راہ میں قدم آگے بڑھائیں گے تو ہر مشکل آسان ہوتی چلی جائے گی اور ہر مشکل کی جزا ملتی چلتی جائے گی ورنہ غصے کو گھونٹنا بڑا کوئی آسان کام نہیں ہے۔چنانچہ ایک دفعہ مجھ سے ایک شخص نے نفسیاتی نقطہ نگاہ سے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اسلام نے جو یہ تعلیم دی ہے تو بڑی مصیبت ہے اس سے تو کئی قسم کی نفسیاتی بیماریاں پیدا ہو جائیں گی کہ تم اپنے غصے ضبط کرو، اپنی خواہشات ضبط کرو۔تو وہ نفسیات کا ماہر تھا اس نے کہا ہم جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے انسان کو طرح طرح کی نفسیاتی بیماریاں ہو جاتی ہیں۔میں نے کہا ان کو ہوتی ہیں جو غصے ضبط کرتے ہیں جو