خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 967
خطبات طاہر جلد 15 967 خطبہ جمعہ 13 دسمبر 1996ء کے منہ چومتے رہے اپنی رحمت کی وجہ سے جو غفلت میں سوئے ہوئے تھے اور جو آئندہ نسلوں میں کبھی پیدا ہونے تھے مختلف زمانوں میں مختلف مکانوں میں مختلف ممالک میں مختلف رنگ ونسل میں۔ان کے لئے بے قرار رہے، ان کے لئے دعائیں کرتے رہے تو یہ وہ رحمت کی عالمی حیثیت ہے جس کی جزاء لازماً یہ ہونی چاہئے کہ ایسی جنت کہ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ کہ سارے زمین و آسمان پر وہ محیط ہو مگر یہ بھی کافی نہیں ہے کیونکہ یہ کرتے تھے تو رضائے باری تعالیٰ کی خاطر۔اس لے وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سے بہتر کوئی عنوان نہیں ہوسکتا، کوئی نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔پس آنحضرت ﷺ کی پیروی کے نتیجے میں لا متناہی ترقیات کے رستے کھلتے ہیں اور سب سے بڑی جزاء اللہ کی محبت کی جزاء ہے اس سے بڑی اور کوئی جزاء نہیں۔تو محبت کی خاطر یہ کام کرو گے تو تھکو گے نہیں۔ایک اور فائدہ اس کا یہ ہے اور اس مضمون پر بھی میں کئی دفعہ روشنی ڈال چکا ہوں مگر جیسا کہ مجھے رویا میں بتایا گیا کہ بعض چیزیں ہیں جو تکرار کی خاطر نہیں اصرار کی خاطر کرنی پڑیں گی۔یعنی تکرار کرتے ہو اگر اس غرض سے کہ تمہارا اصرار ہو کہ تم نے ضرور یہ بات پہنچا کے چھوڑنی ہے تو یہ اصرار جائز اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے اور اسے تکرار نہیں کہا جا سکتا۔تو اس پہلو سے میں آپ کو پھر سمجھا تا ہوں کہ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ نے ہمیں کوششوں کو آسان کرنے کی راہ بھی دکھلا دی ہے۔یہ کام جو بتائے گئے ہیں بڑے مشکل کام ہیں غصے کی حالت میں بھی اپنے دل میں ضبط کرو اور پھر عفو کے تعلق میں بھی اس وقت درگزر نہیں کرنی جب خطرہ ہو کہ یہ درگز رکسی کو باغی بنادے گی۔کتنے باریک مضامین ہیں اور ہر شخص کی دسترس میں نہیں کہ ان کو پوری طرح سمجھ کر ان کا حق ادا کر سکے اور پھر دقتیں بھی بڑی ہیں اس راہ میں، غصہ برداشت کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔غصے کی حالت میں انسان بے اختیار دوسرے کو گالی دے جاتا ہے، تھپڑ مار دیتا ہے۔دوسرے دن پھر آ کے معافی بھی مانگنی پڑتی ہے، فون بھی کرنے پڑتے ہیں کہ معاف کرنا کل غصے کی حالت میں ہم سے یہ ہو گیا تھا، اب آپ ہمیں معاف کر دیں تو اس سے تو معافی اس وقت مانگی جارہی ہے جب اس کا دکھ کا حال کچھ خود بخودہی ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ غصے کی حالت میں تم معاف کیا کرو، اس وقت کوئی کلمہ نہ نکالا کرو تو کوئی آسان کام تو نہیں ہے مگر محبت ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے۔اگر اللہ کی محبت کی خاطر ہو تو یہ چیزیں آسان ہوں گی۔اگر جزاء کی خاطر ہوں تو پھر بھی کسی حد تک آسان