خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 950
خطبات طاہر جلد 15 950 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء ان میں عفو تو اور چیز ہے مگر یہ عضو اس موقع کی باتیں ہیں جیسی کہ مثالیں بیان کی تھیں کہ تھوڑا بہت نقصان پہنچا دیا۔اب جو باہر کے بچے آپ کے ہاں آتے ہیں ان سے بھی انسان عفو سے کام لیتا تو ہے مگر اگر وہ عضو کا کام آپ کو نقصان سے بچا نہ سکے اور آپ کی عزت بھی کم ہو تو پھر وہاں بھی عفو سے کام لینا جائز نہیں ہے۔دوسرے ماں کے بچے پر سختی نہ کریں ، اس کو ماریں نہیں مگر صفح جمیل کا حکم اس کے بعد آپ پر لازماً صادق آتا ہے کہ سمجھا ئیں ماں باپ کو ، کیونکہ صفح میں صرف اعراض کر کے ناراضگی کا اظہار نہیں بلکہ لفظوں میں ناراضگی کا اظہار بھی لغت کی رو سے لفظ صفح میں داخل ہے تو سمجھانا چاہئے اس کی ماں کو یا اس کے باپ کو جو بھی ساتھ ہو کہ دیکھو تم بچوں سے ٹھیک سلوک نہیں کر رہیں یہ نقصان پہنچا رہے ہیں اور تکلیف دہ بات ہے۔اس میں سزا دینے کا مفہوم نہیں ہے مگر اظہار نا پسندیدگی اس رنگ میں کہ دوسرے کو محسوس ہو کہ ایک غلط بات ہو گئی ہے۔تو اس طرح اپنے معاشرے کو قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالیں تو گھر میں اگر تربیت اچھی ہو جائے گی تو یا درکھیں پھر آپ ایک دنیا کی مربی قوم کے طور پر ابھریں گے اور ایسی قوم جو ان نصائح پر جو گھر سے شروع ہوتی ہیں اور بظاہر چھوٹی چھوٹی ہیں جوان فائدہ اٹھاتی ہے اس کے مرتبے بہت بلند ہو جاتے ہیں اور زادہ اللہ کا جو مضمون ہے وہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ عزت دیتا ہے اس شخص کو۔یعنی بات تو نفسیاتی ہے مگر اللہ کی طرف عزت کو پھیر دینا دو باتوں کو ظاہر کرتا ہے ایک تو یہ کہ قانون قدرت ہے ، خدا کا بنایا ہوا قانون ہے جو ضر ور عمل دکھائے گا ایسی صورت میں اگر عفو سچا ہے تو تم ضرور اس کے نتیجہ میں زیادہ عزت کے ساتھ یاد کئے جاؤ گے، عزت کے ساتھ تم سے سلوک کیا جائے گا لیکن اس سے بڑھ کر مضمون یہ ہے کہ جب اللہ کسی کو عزت دیتا ہے تو اس کی پھر کوئی حد نہیں رہتی وہ اس کے مرتبے کو جتنا چاہے بڑھائے ، بڑھاتا چلا جاتا ہے۔پس محض ایک نفسیاتی رد عمل کے طور پر نہیں بلکہ اگر تم خدا کی خاطر ایسا کرو گے۔اگر اللہ کے خوف یا اس کی محبت کے نتیجہ میں ایسا کرو گے تو پھر تمہاری عزتیں ضرور دنیا میں بڑھیں گی اور یہ وہ