خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 930 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 930

خطبات طاہر جلد 15 930 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء رہا، جڑوں سے اکھیڑے گئے۔وہی ثابت قدم رہے جن کے اندر ایمان کی جڑیں مضبوط تھیں اور گہری تھیں جو کلمہ طیبہ کی طرح ایک شجر کی صورت تھے کہ جڑیں زمین میں پیوستہ اور شاخیں آسمان میں خدا سے باتیں کرتی تھیں۔پس آج کے دور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت سے ان لوگوں کا نکلنا جن کے نکلنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمنا فرمائی ہے آپ کے اخلاق حسنہ کے نتیجہ میں ہوگا۔اگر جماعت کے رنگ بدل جائیں ساری جماعت اعلیٰ اخلاق پر قائم ہو جائے تو یہ چند بد کردار اور بدخلق لوگ ایسی جماعت میں رہ ہی نہیں سکتے۔ان کے مزاج اور ہوں گے، ان کا ماحول بدل چکا ہوگا لیکن اگر آپ ان کو اپنے اندر پناہ دیں اگر بد تمیز اور بدخلق انسان کو جو اپنی بیوی سے جھگڑتا ہے جو اپنے بچوں پر ظلم کرتا ہے آپ اگر پیار کی نظر نہیں ڈالتے تو اس کو قبول کی نظر سے دیکھیں باہر آئے تو آپ کی سوسائٹی میں اس طرح کھلی بانہوں سے اس کا استقبال ہو جیسے ایک صاحب خلق کا ہوتا ہے تو یا درکھیں آپ نے اس کو پناہ دے رکھی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں اپنی پناہیں ایسے لوگوں سے اٹھا لو، ان کو نکلنے دو، ان کے لئے اپنے اندر رہنے کی گنجائش ہی نہ چھوڑو۔پس اپنے اعلیٰ اخلاق کو اتنا ترقی دو کہ بد خلق اجنبی دکھائی دینے لگیں۔ایک وہ وقت تھا کہ جب آپ اجنبی تھے یعنی اس سوسائٹی میں جو بد کردار ہو چکی ہے۔اب ایسے غالب آ جاؤ اپنے خلق حسنہ میں کہ بدکردار لوگ اجنبی دکھائی دینے لگیں اور وہ تمہارے وطن کو چھوڑ کر اپنے نئے وطنوں کی طرف روانہ ہوں۔ہجرت بعض دفعہ دو طرفہ رخ رکھتی ہے پہلے انسان خدا کی خاطر گندے لوگوں سے ہجرت کر کے خدا کی جانب بڑھتا ہے پھر اس کے گرد ایک شہر آباد ہونے لگتا ہے جس کی طرف سب اچھے لوگ کھچے چلے آتے ہیں۔دیکھو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی ہجرت نے کیا ثابت کیا بعینہ یہی تو بات تھی۔اپنے وطن، اپنی قوم ، اپنی دنیاوی عظمتوں اور جائیداد اور مال و منال کو سب کچھ ترک کر کے آپ ہجرت کرتے ہوئے ایک لق و دق صحرا میں آ پہنچے اور اپنے موعود بیٹے کو اور اس کی ماں کو وہاں آباد کر دیا۔اب دیکھو تمام دنیا سے دور دور سے کس طرح لوگ اس شہر کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔وہ آماجگاہ ہو گیا ہے نیکیوں کی، کیونکہ حج میں یہ لازم ہے کہ اپنے بدی کے کپڑے اتار پھینکو اور ایک سادہ غریبانہ چادر میں