خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 929
خطبات طاہر جلد 15 929 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور موقع پر فرماتے ہیں ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بنا دے کہ تم دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو “ پہلے حوالے کے بعد اب جو یہ حوالہ پڑھ رہا ہوں اس مقصد کی خاطر، آپ کو سمجھانے کے لئے کہ آپ اگر کوشش کریں گے تو ضرور کامیاب ہوگی کیونکہ یہ کوشش ہواؤں کے رخ کی کوشش ہوگی اگر ہوا کے رخ کے مقابل پر آپ دوڑ لگانے کی کوشش کریں تو بسا اوقات آپ کی کوشش ناکام ہو جائے گی۔بعض دفعہ مخالف ہوا کے جھونکے تو انسان کو اٹھا کر پیچھے کی طرف دھکیل دیتے ہیں ایسے سائیکل چلانے والے آندھیوں میں جو سائیکل چلاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پورے زور سے آگے بڑھ رہے ہیں سائیکل دھکیل کے پیچھے جا پڑتا ہے مجھے بھی خود اس کا تجربہ ہو چکا ہے بعض دفعہ بسوں کو آندھیوں کی تیزی روک کر پیچھے کی طرف دھکیل دیتی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا چاہتا ہے۔آسمان سے ہوائیں چل پڑی ہیں کہ تمہیں اخلاق حسنہ عطا کریں۔اب تم کس تر ڈو میں مبتلا ہو اب کیوں رکتے ہو۔کوشش کرو اور یقین رکھو کہ تمہاری کوششیں ان آسمانی ہواؤں کے رخ پر چلنے کے نتیجہ میں کامیاب ہوں گی جن کو چلانے کا خدا نے فیصلہ فرمالیا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں ایک ایسی جماعت بنادے کہ تم دنیا کے لئے نیکی اور راستبازی کا نمونہ ٹھہرو۔سو اپنے درمیان سے ایسے شخص کو جلد نکالو جو بدی اور شرارت اور فتنہ انگیزی اور بدنفسی کا نمونہ ہے۔جو شخص ہماری جماعت میں غربت اور نیکی اور پرہیز گاری اور حلم اور نرم زبانی اور نیک مزاجی اور نیک چلنی کے ساتھ نہیں رہ سکتا وہ جلد ہم سے جدا ہو جاوے۔(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ: 221) پس ایسے لوگ لازماً جدا ہو جاتے ہیں اگر غالب ماحول ان کے مزاج کے مخالف ہو وہ زیادہ دیر ساتھ چل نہیں سکتے۔اکثر اس فتنوں کے دور میں جو مرتد ہوئے ہیں وہ تمام تر وہی لوگ تھے جو جماعت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی خاطر قربانیوں کی راہوں میں چل سکتے ہی نہیں تھے ، پہلے ان کے پر دے ڈھکے ہوئے تھے کیونکہ کوئی ابتلا نہیں تھا، کوئی آزمائش نہیں تھی۔وہ سمجھتے تھے جماعت کا ممبر بننے سے ہمیں فائدے ہی ہیں لیکن جہاں مخالفت کی آندھیاں چلی ہیں ان کا کوئی نام ونشان بھی باقی نہیں