خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 928 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 928

خطبات طاہر جلد 15 928 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء کشتیاں لڑنے والے جماعت میں آئیں گے تو جماعت کی عزت افزائی کا موجب بنیں گے تو فرماتے ہیں اس وہم کو دل سے نکال دو ہمیں ان پہلوانوں کی ضرورت نہیں ہے۔"۔۔۔بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیل اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔۔۔“ اب دیکھیں فقرے کتنے بچے، کتنے محتاط ہیں یہ نہیں فرمایا جو عظیم اخلاق والے آجائیں، عظیم اخلاق والے بنیں گے کیسے، فرمایا جو تبدیل اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں، آپ سارے، میں، آپ، ہم سب اس میں داخل ہو گئے ہیں۔ساری جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا امام مان بیٹھی ہے کہ خدا کا مقرر کردہ امام ہے ایک بھی نہیں جو اس کلام سے باہر رہ جائے ورنہ اگر یہ فرماتے کہ عظیم اخلاق حسنہ والے آنحضرت ﷺ کی متابعت میں کامل اخلاق کے رنگ اختیار کرنے والے چاہئیں تو ہم سے بھاری اکثریت ایسی ہوتی جو مجھتی کہ ہم مخاطب ہی نہیں ہم کہاں اور یہ ایسے اخلاق والے کہاں اور بہت سے جو اپنے آپ کو سمجھتے وہ بے وقوف ہوتے۔ان کو محض وہم ہوتا کہ وہ صاحب اخلاق ہیں اور ان کا تکبر ان کو اس جماعت میں داخل ہوتا ہوا دکھاتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام دیکھو کس طرح ایک فیض عام بن گیا ہے۔ہراحمدی چھوٹا بڑا ، مرد عورت، بچہ سب اس میں داخل ہو گئے۔فرمایا ہمیں کوشش کرنے والے چاہئیں تو کوشش تو شروع کریں اور وہ کوشش کیسے شروع کی جائے اس کے گر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ہمیں خوب کھول کھول کر سمجھاتے ہیں۔وو۔۔۔یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔نہیں نہیں۔اصلی بہادر وہی ہے جو تبدیل اخلاق پر مقدرت پاوے۔۔۔66 کوشش کرے اور پھر چھوڑے نہیں یہاں تک کہ اس کی طاقت بڑھ جائے یہاں تک کہ وہ اس بات کا اختیار حاصل کر لے خدا تعالیٰ سے کہ اپنے اخلاق کو تبدیل کر دکھاوے۔۔۔۔پس یا درکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیل اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔‘ ( ملفوظات جلد اول صفحہ: 88 تا89)