خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 918
خطبات طاہر جلد 15 918 خطبہ جمعہ 29 /نومبر 1996ء پیروی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام ان باتوں کو کھولا ہے اور خوب کھولا ہے جو سچائی کو جھوٹ سے الگ کرنے والی ، دن کو رات سے الگ کرنے والی اور اس طرح کھول دیا ہے مضمون کو کہ اس کے بعد کوئی احمدی یہ شکوہ نہیں کر سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات ہم سے چھپالی۔آنحضرت ﷺ کا یہی پاک نمونہ تھا جسے اس کامل غلام نے اپنالیا۔حضور اکرم لے کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم اس طرح، اس لئے آیات کو پھیر پھیر کر تجھے سناتے ہیں تا کہ تو ہم سے مضامین کی گہرائی کا علم سیکھ لے۔عرفان جہاں تک بھی انسان کو پہنچا سکتا ہے، وہاں تک تیسرا ادراک پہنچے اور خدا کا فضل اور رحمت تجھ پر اس طرح نازل ہو کہ تو مجسم خدا کا فضل اور رحمت بن جائے۔یہ مقاصد ہیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جس کی وجہ سے، جب خدا تعالیٰ نے مختلف مضامین کو مختلف آیات کو ادل بدل کر، چکر دیتے ہوئے کبھی اس پہلو سے، کبھی اس پہلو سے روشن کیا تو مقصد یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ دنیا کی تدریس کا کام ایسا کامل طور پر کریں کہ جب آپ کے سکھائے ہوئے، حیرت انگیز طور پر آپ کے حکمت سکھانے اور علم سکھانے اور حکمتوں کے راز بتانے کو دیکھیں تو بے اختیار ان کے منہ سے یہ نکلے تو نے اپنے رب سے سیکھنے کا خوب حق ادا کر دیا، ایسا سیکھا ہے کہ اس کی کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی۔صلى الله پس آنحضرت مہ کے سکھانے کا کمال تھا جس نے آپ کے غلاموں کے منہ سے یہ فقرے نکال دیئے واہ واہ ! کیسا شاگرد ہے یعنی اللہ کا شاگرد، خدا سے وہ کچھ سیکھ گیا جس کی عام انسان میں طاقت نہیں تھی کیونکہ تعریف آیات میں عام انسان کی عقل ان کی گہرائی کو پا بھی نہیں سکتی جو باتیں حکمت کی تہہ بہ تہ راز اندرونی را ز بیان کئے جائیں ان کے لئے غیر معمولی ذکی اور فہیم انسان کی ضرورت تھی۔پس جب آنحضرت ﷺ کے عرفان کی باتیں کیا کرتے تھے تو صحابہ کے منہ کی آواز ہے جو قرآن نے محفوظ کی ہے۔بے اختیار ان کے دل سے آوازیں اٹھتیں سبحان اللہ تو نے اپنے رب سے خوب سیکھا ہے، ایسا سیکھا ہے کہ سیکھنے میں تو نے کمال کر دیا اور اگر تو نہ سیکھتا تو ہم بھی کچھ نہ سیکھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی بعینہ یہی رنگ ہے آنحضرت ﷺ سے سیکھا اور سیکھنے کا حق ادا کر دیا اور پھر اس طرح کھول کھول کر ہمارے سامنے بیان فرمایا کہ کوئی پہلو اس کا اندھیرے میں رہنے نہیں دیا۔