خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 907
خطبات طاہر جلد 15 907 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء پھر ادنی رہ ہی نہیں سکتا، وہ اعلیٰ سے تعلق جوڑ کر ضرور اعلیٰ بنایا جاتا ہے۔یہ دعا ئیں اپنے لئے بھی ، اپنی اولادوں کے لئے ، سب گزرے ہوئے اور آئندہ لوگوں کے لئے بھی کریں کیونکہ جزا کا وقت تو ابھی باقی ہے یعنی آخری فیصلے تو قیامت کے دن ہونے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو یہ عظمتیں نصیب فرمائے اور پھر اپنے نشان کے طور پر دنیا کی برکتیں بھی بخشے کیونکہ دنیا کی آنکھ ان باتوں کو دیکھتی نہیں ہے مگر جب خدا کی عظمتیں دنیا کے نشانوں میں ظاہر ہوتی ہیں تب وہ آنکھیں کھولتی ہے اور وہ ان باتوں کو دیکھنے لگتے ہیں۔اب میں مختصراً کچھ یہ مضمون جو تھا میں نے جیسا کہ عرض کیا تھا لمبا مضمون ہے اس کے جو پہلو میرے ذہن میں تھے وہ پورے تو میں بیان نہیں کر سکا مگر امید ہے مرکزی نکتہ احباب جماعت کو سمجھ آگیا ہوگا۔ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے احوال کا خلاصہ یہ ہے کہ 29 جنوری 1926ء کو پیدا ہوئے تھے۔حضرت چوہدری محمد حسین صاحب جو صاحب رؤیا و کشوف بزرگ تھے ان کا نکاح بھی حضرت مصلح موعودؓ نے پڑھایا تھا، ان کی والدہ ماجدہ کا نام ہاجرہ بیگم تھا۔یہ حکیم فضل الرحمن صاحب کی ہمشیرہ تھیں۔حکیم فضل الرحمن وہ مبلغ ہیں جو تئیس (23) سال تک اپنی جوانی میں اپنی بیوی سے الگ رہے اور اف تک نہیں کی کبھی۔افریقہ کے جنگلوں میں زندگی گزاری۔نہایت پاکباز اور بہت ہی با اخلاق اور جاذب نظر شخصیت تھی۔یہ ہمارے امریکہ کے ڈاکٹر حمید الرحمان صاحب کے خالو تھے۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کے ماموں اور ڈاکٹر حمید الرحمن صاحب کے خالو تھے۔ثریا بیگم جن کا وصال ابھی ہوا ہے جن کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر حمیدالرحمان کی والدہ تھیں۔تو یہ خاندان آپس میں اس طرح بڑے قریبی تعلق میں بندھا ہوا ہے اور بہت پاک روایتیں ہیں جو اس خون میں جاری ہیں۔پس دعا کریں کہ یہ آئندہ بھی ہمیشہ جاری رہیں۔وہ مجھے جو یاد تھا کہ رویا میں دیکھا تھا وہ رویا نہیں بلکہ کشفی طور پر آپ کو یہ دکھایا گیا تھا یہ نوٹس ہیں ان میں لکھا ہے ” تین (3) جون 1925ء کو خدا تعالیٰ نے کشفی طور پر دکھلایا کہ ایک فرشتہ ظاہر ہوا جس کے ہاتھوں میں ایک معصوم بچہ تھا ، فرشتے نے وہ بچہ چوہدری محمد حسین صاحب کو پکڑا دیا اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹا عطا فرمایا ہے آپ نے اس بچے کا نام پوچھا تو آواز آئی عبد السلام۔یہ رویا انہوں نے جب لکھ کر حضرت مصلح موعود کو بھجوائی اور نام کی درخواست کی تو آپ نے لکھا ” جب خدا تعالیٰ