خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 906 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 906

خطبات طاہر جلد 15 906 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء اب حضرت مصلح موعودؓ کی پیش گوئی میں یہ بہت ہی عارفانہ نکتہ ہے جو بیان ہوا ہے کہ ہر شخص کا ایک آسمانی نقطہ عروج ہے اور وہاں تک وہ بلند ہو سکتا ہے اس سے آگے وہ نہیں بڑھ سکتا لیکن بھاری اکثریت ہے، اتنی بھاری اکثریت کہ شاید اس کو اعدادوشمار میں شمار ہی نہ کیا جاسکے جو اس نقطہ عروج سے نیچے رہ کر مر جاتی ہے اور کئی ایسے بھی ہیں جو اس نقطہ عروج کی طرف حرکت کرنے کی بجائے مختلف سمت میں حرکت کرتے ہیں۔اس مضمون کو قرآن کریم کی اس آیت نے کھولا ہے اور میں بار ہا سمجھا چکا ہوں۔وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: 177 ) ایک بدنصیب کا ذکر قرآن کریم فرماتا ہے اگر اللہ اسے چاہتا تو جو صلاحیتیں ہم نے عطا کی تھیں ان کے نتیجے میں اسے اس نقطہ عروج آسمانی کی طرف بلند کر لیتا جو اس کا منتہی تھا۔وَلَكِنَّةَ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وه زمین کی طرف جھک گیا۔پس آغاز اچھا ہونا ذمہ داریاں بھی یاد دلاتا ہے اور دعاؤں کی ذمہ داریاں بھی یاد دلاتا ہے کہ ایسے وجود جن پر تمہاری محبت اور پیار اور شفقت کی نظر ہو جن سے تم تو قعات رکھتے ہو کب تک تم ان کی حفاظت کر سکو گے، کب تک ساتھ دو گے، کب تک یہ یقین رکھو گے کہ دنیا کے اثرات اسے اپنی طرف نہیں کھینچ لیں گے اس لئے یہ دعا بھی لازم ہے کہ اسے نیک انجام تک اللہ پہنچائے اور اس نقطہ نگاہ سے سب سے پیاری دعا جو میری زندگی کی جان ہے جس کے لئے میں کئی دفعہ بعض دفعہ لوگوں کو رمضان سے پہلے بھی عاجزانہ خط لکھ کر خصوصیت سے متوجہ کرتا ہوں وہ یہ دعا ہے کہ ان میں شامل کر دے جن کے لئے آسمان سے یہ آواز اٹھے، ان کا استقبال اس لازوال آواز کے ساتھ ہو۔يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَيِنَةُ ارْجِعِي إِلَى رَبَّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِى (الفحر: 3128) تو جسے یہ نیک انجام نصیب ہو جائے اس سے بہتر کیا انسان تصور کر سکتا ہے؟ پس اس جانے والی پاک روح کے لئے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ان لوگوں میں شمار فرمائے جن کی وفات کے وقت یہ آواز کان میں سنائی دی ہو ، جس کی روح سے خدا اس طرح مخاطب ہوا ہو اور ان کی اولاد کو بھی وہ وجہ عظمت عطا کرے جو تعلق باللہ کی وجہ ہے۔جہاں تعلق باللہ وجہ عظمت بنتا ہے، جہاں رفعتیں سجدے میں مضمر ہیں ، جہاں ربی الاعلیٰ کی دعا اس طرح اٹھتی ہے کہ انسان