خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 85
خطبات طاہر جلد 15 59 85 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء طور پر یہ بتایا ہے کہ وہ لوگ جو واقعہ خدا کی طلب میں بچے ہوتے ہیں وہ اپنے اعمال سے پہچانے جاتے ہیں اور وہ اعمال گواہی دیتے ہیں کہ وہ ایمان لا رہے ہیں ورنہ محض ایمان گواہی نہیں دیا کرتا کہ کس کے اعمال بچے ہیں۔ایمان سچا ہو تو وہ اندر کی بات کیا ہے پتا کیسا ہے لیکن جو اعمال اس ایمان کے نتیجہ میں ظہور میں آتے ہیں وہ تو سب دنیا کو دکھائی دیتے ہیں۔تو لاکھ انسان دعوی کرے کہ میں خدا کی تلاش میں سچا ہوں لاکھ یہ کہے کہ میں مومن ہوں ، ایمان دار ہوں جب تک اعمال کی گواہی ساتھ نہ ہو اس وقت تک اس کے ایمان کی سچائی کے اوپر کوئی دلیل نہیں۔تو اگر یہ معنی اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کے آنحضرت ﷺ کے حوالے سے کئے جائیں کہ میں دیکھو الدَّاعِ کی اس بلانے والے کی آواز کا ہمیشہ جواب دیتا ہوں جس کی طرف تم آئے ہو۔تو پھر دوسرے معنے اس کے یہی بنیں گے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی پس تم جس طرح یہ میرے لئے ہر بات پہ لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور گردن جھکا دیتا ہے تم بھی ویسا ہی کرو۔وَلْيُؤْمِنُو الي تب تم حقیقت میں ایمان والے کہلا سکتے ہو۔پھر تم جو ایمان لاؤ گے وہ مقبول ایمان ہو گا۔یہ باتیں ان کو سمجھا دے۔لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تا کہ وہ عقل کریں وہ سمجھیں کہ سچائی کی حقیقت کیا ہے۔الله پس اس پہلو سے رمضان کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں اور یہاں جس خدا کا ذکر ہے کہ میں قریب ہوں میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ رمضان میں یہ قریب تر آجاتا ہے۔پس یہاں قریب کا ایک اور معنی بھی ہے کہ اگر چہ ہمیشہ قریب ہوں مگر بعض دن قربت کے دن ہوتے ہیں، بعض وصال کے دن آجایا کرتے ہیں ، وصال کے موسم ہوتے ہیں، بہار کے بھی موسم ہوتے ہیں ، خزاں کے بھی موسم ہوتے ہیں۔پس فرمایا کہ یہ موسم میرے ملنے کا موسم ہے یہ وہ موسم آیا ہے جب میں قریب ہوں۔پس اس قرب کے دور میں جو زادراہ آپ نے کمانا ہے وہ خدا خود ہے کیونکہ اگر خدا کمالیں گے تو سارا سال وہ آپ کا بنارہے گا اور گزشتہ سال کی نسبت سارا سال آپ کو زیادہ قریب محسوس ہوگا اور یہ قرب جو ہے یہ کسی ایک مقام کا نام نہیں بلکہ ہمیشہ ایک بڑھتے رہنے والے متحرک مقام کا نام ہے جسے ایک جگہ قرار نہیں ہے، آگے بڑھ رہا ہے۔پس قربت کا مضمون لامتناہی ہے۔