خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 902
خطبات طاہر جلد 15 902 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء تو اس میں ایک اور بھی ہمارے لئے سبق ہے۔ ایک وجود گزر گیا مگر اس کے حوالے سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے اے اللہ احمدیت کو اور نوبل لارئیٹ Nobel Laureate عطا کر مگر وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ نوبل لاریمیٹ کتنے ہیں اور کتنوں کا مقابلہ کرے گی احمدیت، ہزار نو بل لا رئیٹ ہیں اور بنتے چلے جائیں گے۔ چار اور بھی لے لئے احمدیت نے مانگ مانگ کے تو کتنا فرق پڑے گا لیکن وہ انعام یافتہ جو خدا کے دربار سے انعام یافتہ ہو وہ تو اگر ان پڑھ بھی ہو تو ایسا انعام یافتہ بن سکتا ہے کہ تمام کا ئنات کو چوٹی کے علماء اور چوٹی کے اعزاز پانے والے اس کی جوتیوں کو اٹھانے میں فخر محسوس کریں ، اس کے پاؤں کی خاک چومنے میں فخر محسوس کریں۔ تو چھوٹی باتوں پہ ہم کیوں راضی ہوں، چھوٹی دعائیں کیوں مانگیں ۔ وہ دعائیں مانگیں جیسی ڈاکٹر عبدالسلام کے باپ نے اپنے بیٹے کے لئے کی تھیں اور جن کو خدا نے اسی طرح قبول فرمایا کہ اپنی رضا کا مظہر بنایا اور اس بات کا قطعی ثبوت آپ کی زندگی کے لمحہ لمحہ نے دیا ہے۔ سائنس کی دنیا میں اتنے بلند مرتبہ تک پہنچنے کے باوجود کامل طور پر خدا کی ہستی کے قائل ۔ بلکہ ایک دفعہ مجھے کہہ رہے تھے کہ جب میں کسی سائنسی اجتماع میں جاتا ہوں تو بعض سرگوشیوں کی آواز آتی ہے یہ وہ ہے جو خدا کو مانتا ہے اور بھی سائنسدان اب ماننے لگے ہیں پہلے سے بڑھ گئے ہیں لیکن جس شان کے ساتھ آپ نے خدائے واحد و یگانہ کے ایمان کا حق ادا کیا ہے اور اس جھنڈے کو بلند کیا ہے ویسا کوئی اور سائنس دان اس جیتی دنیا میں آپ کو دکھائی نہیں دے گا اور پھر خدائے واحد و یگانہ کی عظمت کے نتیجے میں جو انکسار پیدا ہوتا ہے وہ پوری طرح آپ کی ذات میں ہمیشہ رہا۔ نظام جماعت کے سامنے خادمانہ حیثیت کی حفاظت کی ہے۔ اب میں ان کی عمر کے لحاظ سے چھوٹا ، دنیا کے علم کے لحاظ سے تو حیثیت ہی کوئی نہیں مگر جب مجھ سے گفت و شنید کرتے تھے، ملتے تھے وہ عزت واحترام کے تمام تقاضے جو خلافت سے وابستگی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں ان کو اس طرح پورا کرتے تھے کہ میں حیران رہ جاتا تھا اور باتوں میں مشورہ کر کے وہ کہتے تھے جو میں کہتا تھا وہ کرتے تھے جو میں بیان کرتا تھا یا مشورہ نہیں لیں گے، مشورہ لیں گے تو قبول کریں گے اس کو ۔ غرضیکہ مجھے ان کی انکساری کو دیکھ کر رشک آتا تھا کہ کتنا بڑا عالم ہے سائنس کے مضامین میں ۔ سوچیں میں ان سے بحث کر رہا ہوں یہ نہیں کبھی کہا کہ آپ کو پتا کچھ نہیں،