خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 901
خطبات طاہر جلد 15 901 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء آئندہ یہ خلاء محسوس ہوتا رہے گا میں نے کہا وہ مضمون کیوں نہ میں بیان کروں جو ہمیشگی کا مضمون ہے اور لازوال مضمون ہے۔پس نیک انجام کے ساتھ میری توجہ نیک آغاز کی طرف گئی اور مجھے یہ خیال آیا کہ در حقیقت لوگ اچھے انجام کی طرف دیکھتے دیکھتے اس سے ایسے مرعوب ہو جاتے ہیں کہ بسا اوقات آغاز کا خیال ہی نہیں کرتے حالانکہ بہت سے پاک اور نیک انجام ہیں جن کی بنیادیں بعض دفعہ انسان کی پیدائش سے پہلے ڈال دی جاتی ہیں۔چنانچہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب بھی انہی وجودوں میں سے ایک وجود ہیں۔جیسے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو جو عظمتیں ملی ہیں وہ بار بار یاد کرایا کرتے تھے دنیا کو، میری ماں کی دعا ئیں تھیں۔اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔اس کی تو حید کے ساتھ وابستگی اور وفا، اس کا غیر متزلزل اور محکم یقین خدا کی وحدانیت پر اور غیر اللہ کو ڈ کرتے چلے جانا یہ وہ خوبیاں تھیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کے لئے ایک نعمت کی صورت میں ظاہر ہوئیں۔پس میں اپنی پاک بزرگ ماں کی دعاؤں کا ایک پھل ہوں اور یہ مضمون ان کو انکساری کی طرف لے جاتا تھا کہ کھل کر باتیں کرتے تھے ، مجھ سے تو بہت بے تکلفی تھی، کہا کرتے تھے کہ بس قصہ وہی ہے سارا، میں کیا، میرا وجود کیا ، دعاؤں کا پھل ہوں۔اور ڈاکٹر صاحب بھی دعاؤں ہی کا پھل تھے۔ان کے والد بزرگوار چوہدری محمد حسین صاحب اور ان کی والدہ ہاجرہ بیگم نام تھا ان کا دونوں ہی بہت مقدس وجود تھے ، بہت پاکیزہ ،صاف ستھرے، خالص پاکیزہ زندگی گزارنے والے اور احمدیت کے بعد تو سونے پر سہاگے کا عالم تھا۔انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی پیدائش سے پہلے رؤیا دیکھا کہ ان کو ایک خوب صورت پاک بیٹا عطا کیا جا رہا ہے اور اس کا نام عبد السلام بتایا جاتا ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت مصلح موعود کو رویا لکھی اور چونکہ بہت منکسر المزاج تھے اپنی رؤیا کی بنا پر خود نام نہیں رکھا خواب لکھ کر حضرت مصلح موعودؓ سے پوچھا کہ میں اس بچے کا کیا نام رکھوں۔تو آپ نے فرمایا یہ اللہ نے تمہیں بتادیا ہے تو میں کون ہوتا ہوں دخل دینے والا یہی نام رکھ لو۔پس عبد السلام اس بیٹے کا نام الہی منشاء اور رضا کے مطابق رکھا گیا جوان کی خاص دعاؤں کا پھل تھا اور ساری زندگی پھر اس نے اس رویا کی سچائی کو ظاہر کیا اور اپنے ماں باپ کے خلوص کی قبولیت کو ظاہر کیا۔