خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 897 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 897

خطبات طاہر جلد 15 897 خطبہ جمعہ 22 رنومبر 1996ء نام ونمود، سب اسی دنیا میں دھرے رہ جاتے ہیں اور وہ اکیلا اکیلا خدا کے حضور حاضر ہونے کے لئے جب تیار کھڑا ہو پھر وہ اس قسم کے وعدے کیا کرتا ہے اب میں ایمان لاتا ہوں، اب مجھے نجات دے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم فنا کو دیکھ لو اور پھر نجات کی دعائیں مانگو تو تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی ، بدنی زندگی مل بھی جائے تو روحانی زندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس یہ وہ مضمون ہے جو ساری دنیا میں سب کے لئے قدر مشترک رکھتا ہے۔فی الحقیقت انسان اپنی فناپر ویسا یقین نہیں رکھتا جیسا یقین اس کی زندگی میں تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا جانتے ہوئے کہ موت مقدر ہے پھر بھی اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتی۔تو قرآن کریم کا اس شان کے ساتھ اس مضمون کا ذکر فرمانا جو بظاہر دنیا میں سب کو معلوم ہو یہ بتا رہا ہے کہ تمہیں وہم ہے کہ تم جانتے ہو تم نہیں جانتے کہ ہر چیز فانی ہے اور جب ہر چیز کا ذکر فرمایا تو اس کے بعد یہ ہے اعلان وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ کہ ہاں تیرے رب کا جلال و جمال کا جلوہ ہے۔جو باقی رہے گا اور دوسر او جہ کا مطلب رضا ہے جو باقی رہے گی۔یعنی خدا کی رضا جس کو باقی رکھنا چاہے گی اسے رکھے گی اور جو کچھ بھی رہے گا رضا کی بنا پر، اس سے لٹک کر ، اس کے سہارے رہے گا۔اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔تو اللہ کے جلال اور جمال کا جلوہ باقی رہے گا اور جس پر اس کی دائمی ازلی ابدی رضا کی نگاہ پڑی ہے وہ بھی باقی رہ سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی رضا میں شامل ہو کر اس سے الگ رہ کر نہیں۔دوسری بات جو اس میں خاص طور پر توجہ کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ چیزوں کے فنا کا ، ان کی عظمت کے ساتھ جو تعلق ہے یہ مضمون اس بات کو خوب کھول کر بیان فرما رہا ہے کہ تمہاری عزتیں، تمہاری دنیا کی نمود کی کمائی جو کچھ بھی ہے اس کی خاطر تم دنیا سے چھٹے ہوئے تھے تو یاد رکھو کہ وہ بھی فنا ہیں اور اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ہاں ایک خدا کے جلال و جمال کا جلوہ ہے جو باقی رہنے والا ہے۔اس لئے اگر عزتوں کی خاطر تم کچھ کرتے ہو، اپنی دنیا کی نام و نمود کے لئے محنتیں کرتے ہو تو وہ وقت آئے گا جب وہ چیزیں مٹ جائیں گی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض قوموں اور بعض لوگوں اور بعض بڑے بڑے بادشاہوں کی عزت اور نام و نمود تو ہمیں دنیا میں پیچھے باقی رہتی دکھائی دیتی ہے یہ کیوں باقی رہی۔اس کے دو جواب ہیں۔اوّل تو یہ کہ اس مضمون کا آخری فنا کے فیصلے سے تعلق ہے