خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 896
خطبات طاہر جلد 15 896 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء میں داخل ہے۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ پس تم اپنے رب کی کن کن آیات کی تکذیب کرو گے۔یہاں دونوں کا لفظ خطاب میں شامل ہے مگر جب ہم اردو میں تم کہتے ہیں تو لازم نہیں ہوا کرتا کہ دونوں لفظ کو دہرایا جائے مگر قرآن کریم نے یہاں جب بھی سوال اٹھایا ہے تو تم دونوں کہہ کر اٹھایا ہے۔تو تم دونوں کن کن باتوں میں یعنی خدا تعالیٰ کی کس کس شان اور جلوہ گری کی تکذیب کرتے ہو یا کرو گے۔یہ آیات بہت ہی گہرے عارفانہ مضامین پر مشتمل ہیں۔ان کی پوری تفسیر کا تو اس وقت موقع نہیں مگر ایک دو امور ایسے ہیں جن کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ہر چیز فانی ہے اب یہ ایک ایسا اعلان ہے جو روز مرہ میں سب کو علم ہے لیکن اسے دہرایا کیوں گیا ہے اس قدر زور کے ساتھ ایک ایسی صورت میں جو چھوٹوں اور بڑوں دونوں کے لئے ایک عظیم چیلنج کا رنگ رکھتی ہے۔جن اور انس ، بڑے لوگ اور چھوٹے لوگ ، دونوں کو مخاطب کرتی ہے اور بڑی شان کے ساتھ ان کو چیلنج کرتی ہے۔اس میں اس مضمون کے بیان کا عنوان یہ رکھنا۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ یہ کچھ گہری حکمت رکھتا ہے۔در حقیقت ہر فانی انسان اپنے آپ کو لا فانی سمجھ رہا ہوتا ہے اور یہ عجیب متضاد زندگی ہے جو انسان گزارتا ہے اور اس کو شعور بھی نہیں کہ میرے اندر ایک سوچوں میں تضاد پایا جاتا ہے۔سب دنیا کو مرتے اور گزرتے ہوئے دیکھتا ہے، سب دنیا کو دیکھتا ہے کہ اس جہاں میں کوئی نہیں رہا۔آئے دن روزانہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے، ہر موت کے ساتھ ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے اور کچھ عرصے کے بعد وہ جہان ہی بدل جاتا ہے تو کتنے ہی ان گنت بدلے ہوئے جہانوں کا وارث ہو کر وہ اپنی ذات کے متعلق یہ گمان نہیں کرتا کہ مجھے بھی ایک دن اس دنیا سے گزر جانا ہے اور جب وہ گزرے گا تو پھر ان لمحوں میں وہ احساس کہ میں فانی تھا اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔یہی مضمون قرآن کریم میں فرعون کے ذکر میں کئی جگہ بیان ہوا ہے لیکن خاص طور پر اس کی ڈوبتی ہوئی گھڑیوں کی دعا کہ اب میں ایمان لاتا ہوں بنی اسرائیل کے خدا پر ، اس وجہ سے رڈ کر دی گئی یعنی کلیةً نہیں مگر مرکزی نقطہ کے لحاظ سے دعا رد کر دی گئی کیوں کہ فانی انسان جب فنا کو آنکھوں کے سامنے کھڑا دیکھتا ہے وہ لمحہ ہے اس کے یقین کا کہ اب میں اس دنیا میں نہیں رہنے والا ، میں فانی تھا اور اسی لمحے اس کی ساری زندگی اس کو اکارت جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔تمام کوششیں، تمام اموال ، سب دولتیں ، سب نام