خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 895 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 895

خطبات طاہر جلد 15 895 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء جب بھی خدا سے عظمتیں طلب کریں تو انکساری کی عض اور اس سلام کی عظمتیں طلب کریں۔( خطبه جمعه فرموده 22 نومبر 1996ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی : عظمت كُلَّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ فَبِأَيِّ الَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ يَسْلُهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بْنِ پھر فرمایا: ( الرحمن : 27 تا 31) یہ سورۃ رحمان کی آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے ان کا ترجمہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی اس پر یعنی زمین پر ہے سب فنا ہونے والا ہے۔ويَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ اور صرف تیرے رب کی شان جمال و جلال ہے جو باقی رہے گی۔وہ صاحب جلال ہے اور صاحب اکرام ہے۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کی تکذیب کرتے ہو یا تکذیب کرو گے۔يَسْتَلُهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ اسی سے سوال کرتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ ہر وقت وہ ایک نئی شان کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔یووِر یہاں وقت کے پیمانے کے طور پر ہے اس لئے لمحہ لحہ بھی یہاں یو ھر کے مفہوم