خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 84
خطبات طاہر جلد 15 84 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي میری تو نمازیں، میری عبادتیں، میری قربانیاں، میرا تو جینا مرنا کلیهٔ خدا کا ہو چکا ہے۔پس فَلْيَسْتَجِوانی کا یہ معنی ہے، اس طرح میری باتوں کا وہ جواب دیں جس صلى الله طرح محمد رسول الله ل لے میری باتوں کا جواب دیتے ہیں اور انہی سے تم پوچھ رہے ہو، انہی کا حوالہ ہے کہ ان سے سیکھو۔اگر ایسا کرو گے تو تم وَلْيُؤْمِنُوالی دوسری شرط لگائی ہے یہ ایمان ہے، محض فرضی ایمان کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔پس وہ مجھ پر حقیقی معنوں میں ایمان لائیں۔اب اس مضمون کا فَلْيَسْتَجِيبُوا کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا اس پر روشنی ڈالی ہے اور بڑی اہمیت دی ہے اس بات کو کہ تم اپنے ایمان کو پر کھتے رہا کرو۔اگر ایمان ہو تو استجابت یعنی خدا کی باتوں کے جواب میں لبیک کہنا ایک طبعی نتیجہ ہے اس کے لئے کسی منطق کی ضرورت نہیں ، زور لگانے کی ضرورت نہیں ، وہ از خود قاعدے کی طرح خود بخود ایک نتیجہ پیدا کرے گا اور وہ ہے خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے تم تو جانوروں پر بھی زیادہ ایمان لاتے ہو اس کے مقابل پر جتنا خدا پر لاتے ہو۔فرمایا سانپ کا بل ہو اور اس میں سانپ تمہارے سامنے داخل ہوا ہو کبھی جرات ہوگی کہ اس میں انگلی ڈالو؟ یا زہر کے متعلق معلوم ہو کہ یہ زہر ہے اور زہر قاتل ہے اور اٹھو اور جس طرح میٹھے کی ایک مٹھی بھر کے بعض دفعہ منہ میں ڈال لیتے ہو اور اس کو پکڑو مٹھی بھرو اور منہ میں ڈال لو کیا یہ ممکن ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ تمہارا ایمان سچا ہے۔پس جب ایمان سچا ہو تو جس ذات پر ایمان ہے اس کے تقاضے کوشش سے نہیں بلکہ بے اختیاری سے پورے ہوتے ہیں۔انسان چاہے بھی تو سانپ کے سوراخ میں انگلی نہیں ڈال سکتا۔اگر ز بر دستی اس کی انگلی پکڑ کے ڈالنے کی کوشش کی جائے تو بہت زور لگائے گا، بہت جھگڑا کرے گا۔ناممکن ہے کہ جب تک اس کے اندر طاقت ہو وہ آخری وقت تک اس سے بچنے کی کوشش نہ کرے یہاں تک کہ بے اختیار ہوکر نڈھال ہو کر جا پڑے۔یہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ کھولا ہے۔تو استجابت اور ایمان کا یہ تعلق ہے جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔فَلْيَسْتَجِيبُوائی وَلْيُؤْمِنُوالی حالانکہ بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ ایمان پہلے آیا ہے پھر استجابت ہے اور ہے یہی بات۔مگر استجابت کا دعوی دائر کرنے والوں کے لئے خدا کو ڈھونڈ نے میں سچے لوگوں کی علامت کے