خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 83
خطبات طاہر جلد 15 83 خطبہ جمعہ 2 فروری 1996ء طریق یہ ہے فَلْيَسْتَجِیبُو الى الله مخاطب ہے مگر چونکہ سوال رسول اللہ لہ سے کیا گیا تھا اس لئے صلى الله رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک جواب دیا جا رہا ہے اور گویا آپ کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ تم یہی جواب دینا جو اصل اور حقیقی جواب ہے میں تو اتنا قریب ہوں کہ جب بندے سے مخاطب ہوتا ہوں تو بیچ سے سارے سلسلے اڑ جاتے ہیں اور کوئی بیچ میں نہیں رہتا۔اس لئے یہ نہیں فرمایا کہ تو جواب دے۔فرمایا میں قریب ہوں جواب خود ہی شروع کر دیا ہے اور اس مضمون میں اس کو آپ غور سے پڑھیں تو یہ ساری باتیں شامل ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ جس شخص سے تم نے پوچھا درست پوچھا ہے مگر تمہیں پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔وہ خدا جو ہر وقت پاس رہتا ہے ہمیشہ قریب رہتا ہے اس کے متعلق یہ سوال نہیں پوچھا جا سکتا کہ وہ کہاں ہے۔پس ابتدائی سوال کے لحاظ سے جس میں خدا کی ہستی کے متعلق سوال ہو ، ہے بھی کہ نہیں؟ ہے تو کہاں ہے؟ کیسے مل سکتا ہے؟ اس کے جواب میں قریب کا یہ معنی بنے گا کہ تم عجیب لوگ ہو، میں تو ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہوں اور تم میرے متعلق پوچھتے پھر رہے ہو مگر جس سے پوچھا ہے وہ گواہ ہے اس بات کا کہ انی قریب اور اس کی گواہی اس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔صلى الله یہاں ان معنوں میں دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں الدَّاعِ سے مراد آنحضرت بن جاتے ہیں۔سب سے بڑا ، سب سے خلوص کے ساتھ اور پیار کے ساتھ ، کامل وفاداری کے ساتھ اور کامل سچائی کے ساتھ خدا کو بلانے والا الدَّاعِ حضرت محمد تھے اور اس لحاظ سے یہ معنی بالکل ٹھیک بیٹھتے ہیں کہ اجیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جس کے پاس تم آئے تھے اس کو دیکھو، قربت کے معنی کیا ہیں۔وہ جب مجھے بلاتا ہے میں اس کا جواب دیتا ہوں فَلْيَسْتَجِيبُوالی اب دیکھیں وہ ضمیر سب انسانوں کی طرف پھیر دی ایک دعوت والے کا ذکر فرما کر فَلْيَسْتَجِيبُوا پس اے میرے متلاشیو! تم میرا جواب دو۔محمد رسول اللہ مجھے اس لئے پیارے ہیں کہ میری ہر بات کا جواب لبیک کہتے ہوئے دیتے ہیں۔ایک بھی میری منشاء نہیں ہے جسے انہوں نے پورا نہ کیا ہو۔ان کا تو کامل وجود میری رضا کا مظہر بن چکا ہے، سر سے پاؤں تک میری رضا پر ان کی نظر ہے۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : 163) اے محمد و تو اعلان کردے، بتادے کہ تو میرے کتنے قریب ہے یعنی بندے کا بھی تو قریب ہونا ضروری ہے۔وہ قرب یہ ہے کہ اِنَّ صَلَاتِي