خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 864 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 864

خطبات طاہر جلد 15 864 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء فضل نازل ہوئے ہیں تو پھر ان کو سمجھ آئے گی کہ یہ وعدے ہیں جو پورے ہو رہے ہیں۔عام طور پر لوگ اپنے خاندانوں کی ان عظیم قربانیوں کو جو نسبتاً بہت ہی معمولی تھیں اس طرح بھلا دیتے ہیں کہ اس دو آنے کی کیا بات بچوں سے کرنی ہے یا چار آنے کی کیا بات کرنی ہے۔میر ان کو نہیں پتا کہ وہ چار آنے اور دو آنے ہی ہیں جو اب لاکھوں کروڑوں بن گئے ہیں ان کے لئے اور وہی مضمون ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ اس کو بڑھا دیتا ہے وَلَةٌ أَجْرٌ كَرِيمٌ ـ أَجْرٌ كَرِیھ اس کے علاوہ اس کے لئے باقی ہے۔تو اپنے بچوں کو یہ تو بتایا کریں تا کہ ان کو پتا چلے کہ خدا تعالیٰ کتنا بڑھاتا ہے اور کتنا بڑھاتا چلا جاتا ہے۔بعض خاندانوں سے میں اس خیال سے کہ ان کو یہ وہم نہ ہو کہ دنیا میں ترقی ہورہی ہے سب باہر نکل رہے ہیں ترقیات ہر قسم کی مل گئی ہیں ہمیں بھی مل گئیں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ کے وہ رشتے دار جنہوں نے احمدیت کا انکار کیا اور آپ کے آباء جو احمدی ہوئے ان کو تکلیفیں بھی دیں ان کی اولادوں کا کیا حال ہے۔تو اکثر اوقات اچانک ان کی آنکھیں کھلتی ہیں۔کہتے ہیں ان کی اولادوں کا تو حال ہی کوئی نہیں۔کوئی پیری داس، کوئی فقیر، کسی کا برا حال کوئی قرضے لے لے کر بھاگا ہوا لوگوں کے، کوئی جیل میں زندگی بسر کر رہا ہے ، نہ گاؤں میں عزت نہ باہر۔یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی عزتیں ساری احمدیت کے لئے ہیں، دنیا کی عزتیں احمدیت کے لئے ہیں لیکن اصل اجر کریم ہے۔باقیوں کو بھی ملتی ہیں مگر اجر کریم سے مرحوم ہیں اور ان کو جو ملتا ہے وہ قانون قدرت کے مطابق عام جاری نظام ہے اس سے ملتا ہے۔یہ جو عطا اور قرضے کا نظام ہے اس کے نتیجے میں صرف جماعت احمدیہ کومل رہا ہے اور یہ باریک فرق اگر آپ اپنی اولادوں کو نہیں بتائیں گے تو آگے وہ کئی نیکیوں سے محروم رہ سکتے ہیں اس لئے میں اکثر خاندانوں سے ملاقات کے وقت پوچھتا ہوں تم نے اپنے آباؤ اجداد کا کوئی ذکر کیا بچوں سے۔بعض دفعہ ان کو بھی نہیں پتا ہوتا، شرمندہ ہوتے ہیں۔کئی دفعہ میں ان کو بتا تا ہوں۔میں نے کہا آپ کو میں بتا تا ہوں کہ آپ کے باپ کون تھے ، آپ کے دادا کون تھے ، آپ کے نانا کون تھے اور ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔پس یہ وہ اعلیٰ اقدار ہیں جن کا ذکر تفاخر کے طور پر نہیں، انکسار پیدا کرنے کے لئے کرنا ہے۔تفاخر اور انکسار میں بڑا فرق ہے۔پرانے لوگ اپنے آباؤ اجداد کی باتیں فخر سے بیان کرتے ہیں