خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 855 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 855

خطبات طاہر جلد 15 855 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء Old Testament یعنی عہد نامہ قدیم سے عہد نامہ جدید کا موازنہ کر کے معلوم کروں گا کہ کیا حقیقت ہے اور کیا جھوٹ ہے۔اس نے موازنہ کیا اور اپنی ڈائری میں وہ نوٹ کیا کرتا تھا اور وہ نوٹ اس کے ایک بائیو گرافر کے ہاتھ میں آگئے اس نے اس پر کتاب شائع کی ہے اور حیرت انگیز صفائی کے ساتھ وہ موحد بندہ خدا کا ، اس مضمون کو بھانپ گیا کہ تثلیث اور اس قسم کے جھوٹے عقائد بعد میں آنے والے لوگ اپنے مذہبوں کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں ، مذہبوں کے بانی کبھی بھی ایسے بے ہودہ اور لغو عقائد کے قائل نہیں ہو سکتے۔بڑے مضبوط دلائل اس نے دیئے، بڑے مضبوط دلائل اندرونی بائبل کے موازنے کے وقت دیئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ یہ جھوٹا فقرہ ہے، اس کا یہ مطلب تھا ہی نہیں جو اس کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔تو وہ جب اس نے اپنار د عمل دکھایا تو اس کو یو نیورسٹی کی کیمبرج کی پروفیسر شپ سے، چیئر سے مجبوراً استعفیٰ دینا پڑا یعنی نکال دیا گیا عملاً اس کو ، استعفیٰ تو نام کے ہوا کرتے ہیں مراد یہ ہے کہ ہم تمہیں نہیں رکھیں گے ، عزت چاہتے ہو تو آپ ہی باہر ہو جاؤ اور اس کا گزارہ سارا اس پر تھا اس نے کوئی پرواہ نہیں کی۔تو سچائی ہے اصل بات جس کی طرف میں بار بار آپ کو توجہ دلا رہا ہوں۔سچائی میں اگر قول سدید ہو تو پھر قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں اور قول سدید ہو تو اس میں ایک طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ایسے یورپ میں بہت سے دانشور تھے جو بچے تو تھے مگر پر واہ بھی نہیں انہوں نے کی کہ ہمارے سچ کو پہچاننے کے باوجود دنیا جہالتوں میں مبتلا ہے۔چرچوں سے اور بعض انتہا پسند یو نیورسٹیوں سے جو اس زمانے میں عیسائیت کے قبضے میں تھیں تثلیث کی تعلیم دی جارہی ہے ہمیں کیا اس سے، یہ کہہ کر چپ کر کے بیٹھے رہے۔اس چیز سے نہ ان کے عمل کی اصلاح ہو سکتی تھی نہ قوم کے عمل کی اصلاح ہو سکتی تھی اور قرآن کریم نے یہی مضمون ہے جو کھولا ہے کہ سچائی کافی نہیں۔اگر آپ ان سے انفرادی طور پر پوچھتے وہ ایسے بے شمار تھے جو سمجھتے تھے کہ یہ جھوٹ ہے، انہوں نے مذہب میں دلچسپی لینی چھوڑ دی لیکن سچائی کے لئے ایک منگی تلوار بن کے اٹھ کھڑے ہونا، اس کو قول سدید کہتے ہیں اور اگر وہ ایسا کرتے تو یورپ کی کبھی سے اصلاح ہو چکی ہوتی مگر انہوں نے یہ قربانی نہیں دی اور اس قربانی کے بغیر اور قَوْلًا سَدِيدًا سے چھٹے بغیر اصلاح ممکن نہیں ہے اور اپنے نفس میں ممکن نہیں، اپنے تعلقات میں ممکن نہیں۔