خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 854
خطبات طاہر جلد 15 854 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء طاقت ختم نہیں ہوگی کیونکہ سچائی کی طاقت ہے اور سچائی بھی وہ جو قول سدید ہے۔تو قول سدید کو آپ اختیار کریں تو آپ کے نفس کی صرف اصلاح نہیں ہوگی آپ کی باتوں میں طاقت آئے گی اور پھر لوگ سنیں گے اور سنیں گے اور اس سے مرعوب ہوں گے اور اسے ماننے پر مجبور ہوں گے۔چنانچہ اسی دورے کے عرصے میں بار بار میرے سامنے یہ باتیں پیش کی گئیں کہ جی ہم تبلیغ تو کرتے ہیں مگر یہ تو میں ایسی ہیں دہریت میں اتنا آگے نکل گئی ہیں کہ ان پر اثر نہیں ہوتا۔ان سے میں نے کہا میں یہ مان ہی نہیں سکتا، ناممکن ہے۔ساری دنیا میں تو خدا نے اثر کی ہوائیں چلادی ہیں ، آندھیاں بن گئی ہیں وہ عظیم انقلاب برپا ہورہے ہیں اللہ تعالیٰ کو بس ناروے اور سویڈن سے ہی دشمنی تھی کہ یہاں اثر نہ ہو۔یہ بالکل وہم ہے تمہارا۔قول سدید اور حکمت، یہ دو تقاضے ہیں ان کو اگر پورا کرو تو یہ قو میں ضرور اثر قبول کرتی ہیں کیونکہ جہاں میں نے ان کی دہریت دیکھی وہاں دہریت کے نتیجہ میں ، جود ہریت سچائی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی ان کے اندرسچائی کی طرف رجحان بھی دیکھا ہے۔اب یہ بظاہر تضاد ہے مگر کوئی تضاد نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ سچائی جھوٹے عقائد کو قبول کر ہی نہیں سکتی۔ان کی بغاوت خدا کے خلاف نہیں تھی ، ان کی بغاوت تثلیث کے خلاف تھی اور تثلیث کے خلاف بغاوت کو خدا کے خلاف بغاوت قرار دینا ظلم ہے لیکن چونکہ ان کے پاس متبادل نہیں تھا اس لئے سمجھے کہ تثلیث ہی خدا ہے اور یہ خدا قابل قبول نہیں ہے ، اس کو انہوں نے رد کر دیا۔مگر جو ان میں زیادہ بڑے دانشور تھے انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا کہ تثلیث خدا نہیں ہے، تثلیث رڈ ہوگی ، خدار نہیں ہوگا۔چنانچہ میں نے ناروے کو یہ سمجھاتے ہوئے نیوٹن کی مثال دی تھی کہ دیکھو نیوٹن اس دور کی سائنس کا جدامجد ہے۔تمام عظیم سائنس نیوٹن سے پھوٹی ہیں ، اس کی فکر و نظر سے اور وہ ایک موحد تھا ، ایک ایسا موحد جو عمر کے ایک بڑے حصے تک تثلیث کو اس لئے مان رہا تھا کہ اس نے ورثے میں پائی تھی مگر چونکہ سچا انسان تھا ، اگر سچا نہ ہوتا تو اتنی بڑی حکمت کے راز اس کو کبھی معلوم ہی نہ ہوتے۔ایک دن اس کو خیال آیا کہ میں کیا مانگ رہا ہوں ، یہ تثلیث اس کا ئنات سے متصادم ہے۔میں نے جس کے راز معلوم کئے ہیں وہ تو خدا کی گواہی دے رہی ہے، یہ تثلیث کہاں سے آگئی بیچ میں۔وہ دہر یہ نہیں بنا۔اس نے کہا یہ عیسی پر الزام ہے کیونکہ وہ سچا تھا۔اگر وہ سچا تھا تو لازماً موحد ہوگا اس لئے میں مطالعہ کروں گا اور