خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 853
خطبات طاہر جلد 15 853 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء دو بلوں کا تعلق اندھیروا ندھیروں سے ہے۔ سانپ کو جن اس لئے کہا گیا ہے اور جن اس کا عربی میں نام ہے جان جان اس کو کہا جاتا ہے کہ وہ چھپا رہتا ہے اور روشنی ہر ہر چھپے ہوئے گوشے کو ظاہر کر دیتی ہے اور کھول دیتی ہے۔ پس قول سدید ہے جو روشنی پیدا کرتا ہے اور اندرونی روشنی پہلے پیدا کرتا ہے اور بیرونی روشنی اس کے بعد اس سے پھوٹتی ہے اسی میں نور کا مضمون شامل ہے۔ نور کی حکمت آپ کو اس کو سمجھے بغیر سمجھ نہیں آسکے گی۔ جب آپ صاف ہو جائیں اور سیدھے ہو جا ئیں اور اس بات پر مستعد رہیں کہ میری وجہ سے کسی کو دھوکہ نہ ہو اور اگر دھو کے کا خطرہ ہو تو آگے بڑھ کر اس کا دھو کہ دور کرنے کی کوشش کریں اور آنحضرت ﷺ کا بعینہ یہی اسوہ تھا ، جہاں کسی شخص کے متعلق یہ خطرہ محسوس کیا کہ اسے نفس کے متعلق کوئی دھو کہ تو نہیں ہو گیا وہاں ٹھہر کر اس دھو کے کو دور کیا ہے اور اس قول سدید کا حق دھوکہ ادا کر کے پھر آگے بڑھے۔ صلى الله عليسة ایک اور موقع پر ایک بدوی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے رعب اور جلال صلى الله عليسة سے تھر تھر کانپنے لگا، اس پر لرزہ طاری ہو گیا۔ آنحضرت ﷺ نے بڑے تحمل اور پیار سے اس کو کہا دیکھو بھائی میں بھی تمہاری طرح ایک بندہ ہوں ، ایک بشر ہوں مجھ سے ڈرو نہیں اور یہ فقرہ کہ میں بھی ایک بڑھیا کے پیٹ سے پیدا ہوا، بڑھیا کا لفظ ان معنوں میں کہ خاتون تھی جس کے اندر کوئی طاقت نہیں ہوتی ۔ یہ بات سن کر تو اس کو کچھ حوصلہ ہوا پھر آپ نے آگے بات شروع کی اور اگر وہ یہ سمجھتے نعوذ باللہ من ذالک جو سمجھ سکتے ہی نہیں تھے کہ بڑی شان ہے اور بڑا میرا رعب ہے یہ رعب کے نیچے آ گیا ہے اب میں جو کہوں گا اس کو قبول کرے گا تو یہ ایک نفس کا دھو کہ تھا جس دھو کے میں آنحضرت یہ کبھی بھی ایک لمحہ کے لئے بھی مبتلا نہیں ہوئے اور جو اس دھوکے میں مبتلا ہو وہ دوسروں کو دھوکوں سے نجات بخش ہی نہیں سکتا۔ پس قول سدید کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنے نفس کے متعلق اگر باخبر رہیں اور سیدھے صلى الله صلى الله رہیں اور اپنے نفس کا غلط تاثر نہ پڑنے دیں تو یہ وہ سچ ہے جو حیرت انگیز طور پر دنیا کو مرعوب کرتا ہے۔ یہاں جو رعب ہے کسی کی بشری عظمت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ سچائی کی عظمت کی وجہ سے ہے اور آنحضرت ﷺ کا سب سے بڑا رعب اس قول سدید میں تھا۔ بات سیدھی اور صاف اتنی طاقتور کہ وہ دلوں کو بلکہ قوموں کو مرعوب کرتی تھی آئندہ زمانوں کو مرعوب کرنے والی باتیں تھیں ۔ حدیثیں پڑھ کے دیکھیں بعض چھوٹی چھوٹی نصیحتیں ہیں جیسا کہ یہ مثال میں نے ایک دی ہے قیامت تک اس کی