خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 849 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 849

خطبات طاہر جلد 15 849 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء سے ان کی تربیت ہو رہی ہے ان کو باہر کی ہوش ہی کوئی نہیں رہی۔اب بجائے اس کے کہ مائیں کہیں ہماری بچیو! تم کہاں جاتی ہو، کیوں بداثر قبول کرتی ہو اپنی سہیلیوں سے، الٹا ما ئیں ان سے شکوہ کرتی ہیں کہ اپنے لئے بھی تو وقت رکھو تم نے سب کچھ ہی دین کو دے دیا ہے۔مگر جو سمجھ دار مائیں ہیں وہ شکوہ نہیں کرتیں ، وہ مسکراتی ہیں، خوش ہوتی ہیں۔تو یہ ایک بہت ہی وسیع فائدہ ہے جو ہمیں پہنچ رہا ہے۔اب میں اس مضمون کو واپس اس آیت کی طرف لے کے آتا ہوں جس کی میں نے تلاوت کی تھی۔تربیت کے مضمون کا اور اصلاح نفس کا سب سے زیادہ تعلق قول سدید سے ہے اور قرآن کریم نے جہاں جھوٹ کے خلاف غیر معمولی قوت سے جہاد کیا ہے وہاں قول سدید کو جو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی محبت اور پیار اور حیرت انگیز برکتوں کا موجب قرار دیتے ہوئے اس آیت میں بیان کیا ہے اس کی اور مثال کہیں اور دکھائی نہیں دیتی اور بہت گہر انفسیاتی مسئلہ ہے جو یہاں بیان ہوا ہے۔یہاں جھوٹ اور سچ کا مقابلہ نہیں ہے، یہاں سچائی کی اعلیٰ قسموں کا بیان ہے۔سچائی بھی پھوٹتی ہے اور اس سے لطیف تر سچائیاں پیدا ہوتی ہیں اور سب سے اعلیٰ سچائی کی قسم اور قول سدید ہے۔پس قول سدید اپنی جگہ ہر انسان کی اعلیٰ اقدار کا محافظ بن جاتا ہے۔پس MTA کا پیغام تو ایک بیرونی پیغام ہے جو دلوں تک پہنچتا بھی ہے اور تبدیلیاں بھی پیدا کرتا ہے مگر میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ بعض دفعہ یہ تبدیلیاں نفس کو دھو کہ بھی دے دیتی ہیں۔مثلاً ایسے نوجوان جو ان کاموں میں وقف ہیں انہی میں ایسے بھی ملیں گے جو نماز نہیں پڑھ رہے۔تو نیکی میں تو تضاد ہو نہیں سکتا۔یہ ان کا فعل قول سدید کے خلاف ہے۔اگر دین کی محبت کی وجہ سے انہوں نے اپنے قیمتی وقتوں کو MTA پر یا اسی طرح کے دوسرے دینی کاموں پر خرچ کیا تو دین کی محبت کا اوّل تقاضا تو یہ تھا کہ نماز پر قائم ہو جائیں۔اور قول سدید سے مراد محض زبان کا قول نہیں ایک عمل کی تصویر ہے جو قول سدید کی اصطلاح میں بیان فرمائی گئی ہے۔ایسے لوگ تضادات سے پاک ہوتے ہیں ان کے اندر بل نہیں ہوتے۔بلوں میں چیز کو چھپایا جاتا ہے اور جب وہ کھل جائے ، بل دور کر دیں تو اصل چیز پھر خوب کھل کر سامنے آتی ہے۔تو انسانی فطرت میں جو بل دینا اپنی نیتوں کو ، اپنے اعمال کو ، یہ ایسے داخل ہے جیسے سانپ کی فطرت میں بل دے کر بیٹھنا ہے اور یہ قول سدید کے خلاف ہے۔جو خدا تعالیٰ نے مثلاً بائیل میں واضح طور پر نفس کے ساتھ شیطان کو مشابہت دی ہے اور شیطان کا دوسرا نام سانپ رکھا ہے