خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 838 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 838

خطبات طاہر جلد 15 838 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء امنا اے خدا! ہم ایمان لے آئے ۔ صلى الله - تو اب دیکھیں پہلا ایمان جو کتنا مضبوط اور شاندار دکھائی دے رہا تھا عام دنیا داروں سے کتنا ممتاز کر رہا تھا ان لوگوں کو جو خدا کی یاد میں کائنات پر غور کرتے ہوئے سوچوں کے سفر اختیار کرتے ہیں، لگتا تھا بس یہی منزل ہے اس کے بعد کوئی منزل نہیں لیکن پھر ایک وصل کی منزل آئی ہے جو اندر کی راہ دکھانے والی ہے جو بتاتی ہے کہ میں ہو آیا ہوں وہاں سے جس طرف تم جا رہے ہو۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ جھوٹ ہے اور یہ دستور آنحضرت ﷺ کی اپنی زندگی کے ہر معاملے میں تھا۔ تھا۔ ایک دفعہ مدینہ میں رات کو شور پڑا اور خطرہ تھا کہ کسی طرف سے کوئی شرارت پیدا ہو رہی ہے لوگوں نے جلد سے جلد اپنی گھوڑیوں پر کاٹھیاں کسیں اور ان کو زینیں پہنائیں اور جب وہ روانہ ہوئے دیکھنے کے لئے وہ کون سی جگہ تھی ۔ تو محمد رسول اللہ ﷺہ واپس آ رہے تھے۔ تو یہ رسول اللہ ﷺ کی واپسی کا سفر تھا آپ نے ان کو بتایا کہ میں دیکھ آیا ہوں فکر کی کوئی بات نہیں جو بھی خطرہ تھا وہ مل گیا ہے۔ صلى الله الله پس خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ واپس آنے والا وجود ہے جو ان مومنوں کو ملتا ہے جو ابھی سفر میں ، ابھی رستے میں ہیں اور جب وہ کہتا ہے کہ ہاں میں خدا کو دیکھ آیا ہوں۔ میں نے اپنے رب کا نظارہ کیا ہے تو پھر یہ کہتے ہیں آمنا اے خدا! اب ہمیں پتا چلا ہے کہ ایمان ہوتا کیا ہے؟ ربنا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وہ آگ جس سے بچنے کی دعا مانگی گئی تھی وہ اب پوری ہوئی ہے ۔ وہ محض ایک ایسی دعا نہیں تھی جو آپ نے مانگی اور یقین کر لیا کہ اب ہم بچ گئے ۔ ہم نے آگ سے بچنے کی دعا مانگی ہے۔ اس کے پورا ہونے کی علامتیں نظر آنی چاہئیں اور وہ علامتیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پہچان ہے، آپ پر ایمان لانا ہے، آپ کے دعاوی پر ایمان لانا ہے۔ اس کے بعد خدا یہ دعا سکھاتا ہے ربنا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا پھر مغفرت کا سفر شروع ہوتا ہے وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا اور ہم میں تو بہت سی کمزوریاں ہیں۔ کمزوریوں کو دور کئے بغیر ہم کیسے تیری عقوبت سے بچ سکیں گے۔اس لئے اب پہلوں کی تو مغفرت فرمادے اور آئندہ اب تو ہی ہماری کمزوریاں دور کر کیونکہ ہمیں اپنی کوششوں سے الله تو کمزوریاں دور ہوتی دکھائی نہیں دیتیں ۔ بارہا انسان کوشش کرتا ہے ہر دفعہ نا کام ہو جاتا ہے۔ پس صلى الله صلى الله عروسة ۔ آنحضرت ت پر جو ایمان لانا ہے اس کا تقاضا یہ ہے جس کا مطلب ہے کہ آنحضور ﷺ میں یہ باتیں تھیں جو اپنے پر ایمان لانے والوں کو سمجھائیں کہ جس خدا تک میں پہنچا ہوں، جہاں سے ہوکر میں آیا