خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 837
خطبات طاہر جلد 15 837 خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1996ء نہیں کہ گڑھے میں جاؤں گا یا کسی مضبوط زمین پر قدم رکھوں گا تو مجھے کیا اس سے۔پس سمعنا کا مقام دیکھنے کے بعد آتا ہے، بصیرت اور بصارت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔تو خدا تعالیٰ نے پہلے دیکھنے کا سفر شروع کیا ہے۔وہ دیکھتے ہیں ،غور کرتے ہیں، وہ آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں وہ نئے نتائج نکالتے ہیں۔اس وقت وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ انہیں حضرت محمد رسول اللہ یہ کی آواز سنائی دے۔اس وقت وہ سنتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ ہاں یہ درست ہے۔رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِ يَا يُنَادِی لِلْإِيْمَانِ بے اختیار ان کے دل سے آواز اٹھتی ہے اے ہمارے رب ہم نے سن لیا صلى الله جب ایک منادی کرنے والے یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے منادی کی لِلْإِیمَانِ ایمان کی طرف بلا يا اَنْ أُمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَامَنَّا جب تک پہلے ربوبیت سے واقفیت نہ ہوئی ہو، ایمان بالغیب یہاں کام نہیں آتا۔یہ مضمون ایک الگ اور وسیع اور گہرا مضمون ہے کہ ایمان بالغیب کا کیا مطلب ہے مگر یہاں اس موقع پر جو پچھلا مضمون ہے اس سے تعلق باندھا گیا ہے جہاں یہ عرض کیا تھا بندے نے کہ ربنا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا - اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک پہنچایا گیا ہے کہ ہم نے اب ایک منادی کرنے والے کو سنا۔پہلے تو ہمارا تصور محض سوچوں کی راہ سے خدا تک پہنچ رہا تھا، امکانات کی دنیا میں تھا ، حقائق کی دنیا تک ابھی اس نے قدم نہیں رکھا تھا۔مگر ایک حقائق کی دنیا والے نے آواز دی جو اپنے رب کے وطن سے آیا ہوا تھا یعنی رب کے وطن سے مراد ہے وہ رب جو اپنے مومنوں کی سوچوں میں بستا ہے اور جب اس تک رسائی ہو جائے تو گویا وہ خدا کا وطن بن جاتا ہے۔پس خدا کا وطن اس پہلو سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کاوہ وطن تھا جس میں خدا اتر آیا تھا۔پس جس نے خدا کا وطن دیکھ لیا اور پھر خدا کو دیکھنے کے بعد اترا ہو اور پھر آواز دے رہا ہو اس وقت ایمان میں ایک اور شان پیدا ہو جاتی ہے۔پس اپنے دیکھنے کے نتیجہ میں رب رب کہتے ہوئے بھی یہ عرض کرتے ہوئے کہ اے خدا ہم تجھے پہچان گئے ہیں ہمیں آگ میں نہ ڈالنا ، ہم کوشش کریں گے ہم ٹھیک ہو جائیں۔مگر یہ جو اقرار ہے یہ اصل اقرار اس وقت پیدا ہوا جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ منادی سنی ہے کہ اے سوچوں کی وادیوں میں بسنے والو! تمہیں ابھی بھی پتا نہیں کہ رب کون ہے۔وہ رب مجھ سے پوچھو، میرے ذریعے دیکھو اور میری زبان سے سنو کہ وہ رب کیا ہے۔یہ آواز جب سنی تو انہوں نے کہا